آبنائے ہرمز کی بندش، خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی

قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے اعلان کیا کہ وہ امریکی زمینی حملے کے لیے تیار ہے
شائع 30 مارچ 2026 12:00pm

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے خلاف بڑھتی کشیدگی کے درمیان عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پیر کی صبح برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تین فیصد سے زائد بڑھ کر فی بیرل 116 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 19 مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح ہے جب یہ عارضی طور پر 119 ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے اعلان کیا کہ وہ امریکی زمینی حملے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ تہران امریکی فوجیوں کے پہنچنے کا انتظار کر رہا ہے تاکہ انہیں جواب دے کر ان کے علاقائی حامیوں کو سزا دے سکے۔

دوسری جانب ہفتے کے اختتام پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، جب ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے پہلی بار اسرائیل پر میزائل داغے، اور اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کو بڑھایا۔

ایران کی جانب سے ہرمز کے تنگ راستے کو جزوی طور پر بند کرنے کے اقدام نے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس ایل این جی کی تقریباً ایک پانچویں مقدار کی فراہمی متاثر کی ہے، جس سے دنیا کو دہائیوں کی سب سے بڑی توانائی بحران کا سامنا ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے تیل کی قیمتیں تقریباً 60 فیصد بڑھ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن مہنگا ہوا اور کئی ممالک کو توانائی بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تنگ راستے میں بحری ٹریفک معمول پر نہیں آتی، تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران 6 اپریل تک ہرمز کی بندش ختم نہیں کرتا تو وہ ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کردیں گے۔

Read Comments