بڑھتی عمر میں ماں بننے کا رجحان: محفوظ حمل اور صحت مند بچے کے لیے چند ضروری تدابیر
بدلتے ہوئے رحجانات اور کریئر بنانے کی دور کے باعث اب خواتین کی بڑی تعداد میں 35 سال یا اس سے زائد عمر میں پہلی بارماں بننا ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمر میں حمل کے دوران چند مخصوص چیلنجز اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی معروف ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر جیکولین مینز، جنہوں نے خود 30 سال کی عمر کے آخری حصے میں بچوں کو جنم دیا، اپنئ ذاتی تجربے کو شیئر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس عمر میں حمل جسمانی طور پر کافی تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس عمر میں تھکن زیادہ محسوس ہوتی ہے اور کچھ پیچیدگیوں پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر خواتین محفوظ اورایک صحت مند بچے کو جنم دینے میں کامیاب رہتی ہیں۔
امریکی طبی رپورٹس کے مطابق 2023 میں ہونے والی کل پیدائشوں میں سے 21 فیصد مائیں 35 سال یا اس سے زائد عمر کی تھیں، جو کہ 1990 کے مقابلے میں دوگنی شرح ہے۔
اگرچہ عمر بڑھنے کے ساتھ کچھ خطرات (جیسے ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس) بڑھ سکتے ہیں، لیکن سنگین پیچیدگیوں کا مجموعی امکان اب بھی کافی کم ہے۔
بڑی عمر کی حاملہ خواتین میں ہائی بلڈ پریشر یا موٹاپے جیسی بیماریوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور سی-سیکشن، جڑواں بچوں یا کروموسومل مسائل والے بچوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
مارچ آف ڈائمز کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مائیکل وارن کہتے ہیں، ’35 سال سے زیادہ عمر کی خواتین بھی صحت مند حمل اور خوشحال بچوں کی امید رکھ سکتی ہیں۔‘
ڈاکٹر وارن کے مطابق، اگر آپ کی کوئی دائمی بیماری ہے تو اس کا علاج اور باقاعدہ چیک اپ کرانا بھی ضروری ہے۔ حمل دل اور خون کی حجم پر زیادہ دباؤ ڈالتا ہے، اس لیے اچھی جسمانی حالت میں ہونا مشکلات کو بہتر طریقے سے سہنے میں مدد دیتا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس کی ماہر ڈاکٹر ایشلے زنک کے مطابق، حاملہ ہونے سے پہلے خود کو جسمانی طور پر فٹ کرنا سب سے اہم ہے۔ وہ اسے ”بچے کے لیے بہترین ماحول تیار کرنا“ قرار دیتی ہیں۔ اس کے لیے متوازن غذا، متحرک طرزِ زندگی اور سگریٹ نوشی جیسی مضر عادات سے چھٹکارا پانا لازمی ہے۔
حمل کی منصوبہ بندی سے پہلے چیک اپ کروانا فائدہ مند ہوتا ہے تاکہ کسی بھی صحت کے مسئلے پر بات کی جا سکے، ویکسینیشن مکمل ہو، اور ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہو سکے۔
35 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے ماہرین درج ذیل ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔
پہلے سہ ماہی میں الٹراساؤنڈ بچے کی عمر، جڑواں بچوں کی موجودگی اور ابتدائی نشوونما کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ 35 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں کچھ ہارمونس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے یا وہ آئی وی ایف جیسی علاجی تکنیک استعمال کر سکتی ہیں، جس سے جڑواں یا تین گنا بچوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ڈاؤن سنڈروم جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی تشخیص کے لیے مخصوص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان انویسیو پری نیٹل ٹیسٹ کروموسومل مسائل جیسے ڈاؤن سنڈروم، ٹرائیسوومی 13 اور 18 کے خطرات کا ابتدائی جائزہ دیتا ہے۔ اگر ٹیسٹ میں خطرہ ظاہر ہو تو مزید ٹیسٹ جیسے امینوسینٹیسس یا کورائونک ویلَس سیمپلنگ کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
حمل کے آخری مراحل میں 32–34 ہفتے کے دوران ’گروتھ الٹراساؤنڈ‘ بچے کی نشوونما اور پیدائش کے لیے ضروری عناصر کی جانچ کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ چیک خاص طور پر ان پیچیدگیوں کا پتہ لگانے میں مدد دیتے ہیں جو دیر سے ماں بننے والی خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔
حمل کے آخری ہفتوں (32 سے 34 ہفتے) میں بچے کی صحت اورپوزیشن چیک کرنے کے لیے اسکین کیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 40 سال سے زائد عمر کی خواتین میں سی-سیکشن (بڑا آپریشن) کے امکانات 48 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں بلڈ پریشر، شوگر یا بچے کا وزن زیادہ ہونا شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر مینز کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں خود بھی دورانِ حمل پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بروقت طبی امداد کی بدولت ان کے بچے اب مکمل صحت مند اور توانا ہیں۔
بہترین منصوبہ بندی، باقاعدہ طبی معائنے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر بڑی عمر میں بھی ایک محفوظ حمل اور صحت مند بچے کی خواہش پوری کی جا سکتی ہے۔