کیا آپ کو بھی ’غلط لوگ‘ ہی پسند آتے ہیں؟ جانیے اس پراسرار کشش کی حقیقت

کیا یہ سب تقدیر کا کھیل ہے یا کچھ اور؟ جانیے سوشل سائیکولوجی کی ماہر ڈاکٹر سے۔
شائع 31 مارچ 2026 02:56pm

اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ہم بار بار ایسے لوگوں کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں؟ لاشعوری طور پرایسے ساتھیوں کا انتخاب کرلینا جو ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، درحقیقت یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ہمارے لاشعورکی ایک گہری کارستانی ہے۔

سوشل سائیکلوجی کی ماہر ڈاکٹر لیراز مارگلٹ اس رجحان کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس کی جڑیں ہمارے اٹیچمنٹ پیٹرنز میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں بار بار انہی جذباتی تجربات کی طرف دھکیلتی ہے جن سے ہم پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔

اس نفسیاتی گُتھی کا سرا ہمارے بچپن سے جڑا ہوتا ہے جہاں والدین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہمارے مستقبل کے فیصلوں کی بنیاد رکھتی ہے۔

جب ہم کسی ایسے شخص کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں یا شدید کشش محسوس کرتے ہیں جو تعلقات میں ہمارے لیے جذباتی طور پر تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، تو دراصل ہمارا لاشعور ماضی کے کسی ادھورے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا فکری عمل ہے جس میں انسان انجانے میں اپنے والدین کے ساتھ پیش آنے والے تلخ تجربات کو نئے رشتوں میں دوبارہ تخلیق کرتا ہے تاکہ شاید اس بار وہ اس پر قابو پا سکے یا اسے درست کر سکے۔

انسان کی یہ لاشعوری کوشش اکثر ایک تباہ کن چکر کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس میں وہ بار بار دکھ پانے کے باوجود پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید مائل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مارگلٹ کے مطابق وابستگی کے ان مخصوص انداز یا اٹیچمنٹ پیٹرنز کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس تکلیف دہ سلسلے کو توڑا جا سکے۔

خوش قسمتی سے، اس تکلیف دہ چکر کو توڑنا ممکن ہے۔ جب انسان اپنی ان لاشعوری ترجیحات اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے نفسیاتی اسباب کو سمجھ لیتا ہے، تو وہ شعوری طور پر خود کو اس نفسیاتی قید سے آزاد کر کے ایک بہتر اور خوشگوار زندگی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اپنے ماضی کے اثرات کو پہچاننا ہی ایک مستحکم اور پرسکون مستقبل کی طرف پہلا قدم ہے۔

Read Comments