بابا وانگا کی 2026 سے متعلق پیشگوئیاں: کیا واقعی تیسری عالمی جنگ اور خلائی مخلوق کا خطرہ ہے؟

کیا بابا وانگا کی پیشگوئیاں تحریری یا مستند ذرائع میں موجود ہیں؟
اپ ڈیٹ 03 اپريل 2026 12:26pm

بلغاریہ کی مشہور نابینا نجومی، بابا وانگا، کی پیشگوئیاں اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ زور پکڑ رہا ہے کہ انہوں نے سال 2026 میں تیسری عالمی جنگ اور خلائی مخلوق سے رابطے کی پیش گوئی کی تھی، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ان پوسٹس میں بابا وانگا کے نام کو عالمی جنگ، بڑے پیمانے پر قدرتی آفات اور غیر معمولی واقعات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، لیکن محققین اور تاریخ دان کہتے ہیں کہ ان دعووں کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں۔

بابا وانگا کی وفات 1996ء میں ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی پیش گوئیوں کو کبھی تحریری شکل میں درج نہیں کیا۔ ان سے منسوب معلومات زیادہ تر زبان سے زبان تک منتقل ہونے والی روایات اور بعد کی تعبیرات پر مبنی ہیں، جو اکثر موجودہ عالمی حالات کے مطابق دوبارہ بیان کی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے والی یہ پیشگوئیاں مبہم ہیں اور جدید خدشات کے مطابق تعبیر کی گئی ہیں۔

ان کی ایک پیش گوئی کے مطابق، 2028 تک انسان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ کی طرف پیش رفت کرے گا، حالانکہ سائنسی شواہد کے مطابق یہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس بات کے ٹھوس سائنسی حقائق موجود ہیں۔

اسی طرح 2020 کے حوالے سے انہوں نے 2020ء کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی کی پیش گوئی کی تھی اورکہا تھا کہ یورپ شدید معاشی بحران اور کساد بازاری کا شکار ہوگا اور اس کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا، کرونا کی وجہ سے یورپ معاشی صورتِ حال کا شکار تو ہوا لیکن ان کا یہ کہنا کہ ”یورپ کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا“ ایسا بلکل نہ ہوا۔

بلکہ مزید یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ ”یہ براعظم بے کار زمین بن کر رہ جائے گا اور لگ بھگ ہر طرح کی زندگی یہاں ختم ہو جائے گی“ یہ بات بھی درست ثابت نہ ہوئی۔

2020 کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی کی پیشگوئی کو ماہرین اورتجزیہ نگار ثقافتی رجحان اور سوشل میڈیا کے اثرات کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ تصدیق شدہ حقیقت کے طور پر۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی پیشگوئیاں اصل میں غیر یقینی حالات میں عوام کے خوف اور تشویش کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ درست مستقبل بینی۔

Read Comments