اگر خاندان کو کینسر سے بچانا چاہتے ہیں تو آج ہی یہ اہم تبدیلیاں اپنائیں
آج کے دور میں کینسر جیسی خطرناک بیماری تیزی سے عام ہوتی جا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ہمارا بدلتا ہوا طرزِ زندگی ہے۔
کھانے پینے کی عادات سے لے کر روزمرہ کے استعمال کی چیزوں تک، کئی ایسی چیزیں ہیں جو بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ہم اپنے گھروں میں چند سادہ تبدیلیاں کر لیں تو اس بیماری کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
کینسر کے ماہر ڈاکٹر ترنگ کرشنا نے ایک پوڈ کاسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں شامل کچھ عادات ایسی ہیں جو بظاہر معمولی لگتی ہیں مگر ایک عرصے بعد نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایلومینیم کے برتنوں سے پرہیز
انہوں نے مشورہ دیا کہ ایلومینیم کے برتنوں کا استعمال ترک کر دینا چاہیے جب ایلومینیم کے برتن کو گرم کیا جاتا ہے، تو اس کی دھات کے ذرات آہستہ آہستہ کھانے میں شامل ہونے لگتے ہیں۔ طویل عرصے تک ایسا کھانا کھانے سے یہ دھات جسم کے ٹشوز میں جمع ہو جاتی ہے، جو کینسر کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کھانا پکانے کے لیے اسٹین لیس اسٹیل ، مٹی کے برتن یا لوہے کی کڑھائی استعمال کریں، جو صحت کے لیے محفوظ ہیں۔
ٹوتھ پیسٹ کا درست انتخاب
ڈاکٹر کے مطابق ایسا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا بہتر ہے جس میں سوڈیم لورل سلفیٹ (ایس ایل ایس ) شامل نہ ہو، کیونکہ یہ کیمیکل صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ عالمی سطح پر کئی طبی تحقیقات میں ایس ایل ایس کو جلد اور مسوڑھوں کی حساسیت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
ہمیشہ ایسا ٹوتھ پیسٹ خریدیں جس پر واضح طور پر ”ایس ایل ایس فری“ لکھا ہو یا قدرتی اجزاء سے بنے ٹوتھ پیسٹ کو ترجیح دیں۔
پلاسٹک کی بوتلوں سے دوری
روزمرہ استعمال میں آنے والی پلاسٹک کی بوتلیں بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ پلاسٹک میں بیسفینول-اے اور فتھیلیٹس جیسے کیمیکلز ہوتے ہیں۔ جب پانی ان بوتلوں میں دیر تک رہتا ہے، تو یہ کیمیکلز پانی میں شامل ہو جاتے ہیں جو ہارمونز کے بگاڑ اور کینسر (خصوصاً چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر) کا باعث بن سکتے ہیں۔
پلاسٹک کی جگہ شیشے ، تانبے یا اسٹیل کی بوتلیں استعمال کریں۔ یاد رہے کہ تانبے کی بوتل کا استعمال کرتے وقت اسے باقاعدگی سے صاف کرنا ضروری ہے۔
طبی ماہرین کینسر سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں مزید کچھ اہم تبدیلیوں پر بھی زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نان اسٹک برتنوں کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے، کیونکہ ان پر موجود ’ٹیفلون‘ کی تہہ کھرچ جانے کی صورت میں خطرناک کیمیکلز کھانے میں شامل ہو کر کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی طرح، عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ ڈبہ بند گوشت اور حد سے زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کا کثرت سے استعمال کینسر کے خطرے میں 18 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔
اپنی روزمرہ خوراک میں اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور تازہ پھلوں اور سبزیوں کو شامل کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ قدرتی اجزاء جسم کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنا کر کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف ڈھال کا کام کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سادہ تبدیلیاں بظاہر معمولی ہیں، لیکن ان پر عمل کر کے آپ اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں، کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔