امریکی فوج میں رجیم چینج: کئی افسران فارغ، وزیرِ جنگ نے خواتین اور سیاہ فام افسران کی ترقیاں روک دیں

پیٹ ہیگستھ نے درجن بھر سے زائد سیاہ فام اور خاتون افسران کی ترقیاں بھی روک دی ہیں۔
اپ ڈیٹ 04 اپريل 2026 11:39am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں ایک بڑا انتظامی طوفان برپا ہے جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد سینیئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے یا انہیں جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا ہے۔

ان تبدیلیوں نے امریکی فوج کے ان تجربہ کار کمانڈروں کو متاثر کیا ہے جنہوں نے عراق، افغانستان اور خلیجی جنگوں میں کئی دہائیاں گزاریں۔

ان کارروائیوں کے بارے میں نو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ کئی افسران کو ان کی نسل، صنف یا سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں سے ہمدردی کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی جمعرات کو سامنے آئی جب آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی اے جارج کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے اور ریٹائر ہونے کا حکم دیا گیا۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ ہم جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات کے مشکور ہیں لیکن اب آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا وقت آگیا تھا۔

جنرل جارج، جنہوں نے 2023 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا، عام طور پر 2027 تک اپنی مدت پوری کرتے۔ ان کے ساتھ ساتھ آرمی کے ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔

جنرل جارج کی جگہ وائس چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو کو قائم مقام آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے، جن کے بارے میں ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ وزیر دفاع ہیگستھ کے مکمل قابلِ اعتماد اور ان کے وژن پر عمل کرنے والے افسر ہیں۔

اس بڑی تبدیلی کی زد میں آنے والوں میں کچھ انتہائی اہم نام شامل ہیں۔ بحریہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ ایڈمرل لیزا فرانچیٹی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر، جو کہ ایک مایہ ناز فائٹر پائلٹ اور تجربہ کار رہنما ہیں، انہیں بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔

دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو اس رپورٹ کے بعد ہٹایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے اثرات بہت محدود رہے ہیں، جو کہ صدر ٹرمپ کے عوامی دعوؤں کے برعکس تھا۔

اس کے علاوہ میشنمل سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ٹموتھی ڈی ہاف اور کئی دیگر تھری اسٹار اور فور اسٹار جرنیلوں کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی فوج میں اس اکھاڑ پچھاڑ کو رجیم چینج قرار دیا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر ہٹائے گئے امریکی افسران کی تصاویر شائع کرتے ہوئے طنزیہ لکھا: ”رجیم چینج کامیابی سے مکمل“۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین نے ان تبدیلیوں کو فوج کے اندر سیاسی مداخلت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے۔

ایک ریٹائرڈ سینیئر فوجی افسر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی وضاحت کے اس طرح کی مداخلت ہمارے افسران کے اندر ایک خوف کا سایہ پیدا کر دے گی، کیونکہ انہیں لگے گا کہ ان کے پورے کیریئر کے کام کو ایک قلم کی جنبش سے سیاسی رنگ دے کر ختم کیا جا سکتا ہے۔

پینٹاگون کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہیگستھ نے درجن بھر سے زائد سیاہ فام اور خاتون افسران کی ترقیاں بھی روک دی ہیں، حالانکہ ان کے ناموں کی سفارش پیشہ ورانہ بنیادوں پر کی گئی تھی۔

امریکا کی آرمی، ایئر فورس، نیوی اور میرینز کے اندر ترقیاں دینے کا عمل اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ صرف سب سے زیادہ باصلاحیت اور اہل افسران ہی آگے بڑھ سکیں۔

اس تمام صورتحال سے باخبر نو امریکی حکام نے امریکی نیوز چینل ’این بی سی‘ کو بتایا کہ اس عمل میں مداخلت کرنے کے ہیگستھ کے فیصلے نے ان فوجی شاخوں اور وائٹ ہاؤس کے اندر کچھ حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ”فوج کا ایک بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جو ہیگستھ کی اس سطح کی مداخلت سے محفوظ رہا ہو۔“

دو حکام کا کہنا ہے کہ فوج اور وائٹ ہاؤس کے اندر خاص طور پر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ ہیگستھ پینٹاگون میں ’تنوع، مساوات اور شمولیت‘ کے اقدامات کو نشانہ بناتے ہوئے کچھ باصلاحیت افسران کی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں پر ترقیوں کو محض ان کی نسل یا صنف کی وجہ سے روک رہے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ ہیگستھ ان فوجی افسران کو بھی چن چن کر نشانہ بنا سکتے ہیں جنہیں وہ بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں یا پالیسیوں کا حامی سمجھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس سے فوج کے اندر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی کہ ترقیاں صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔

دوسری جانب پینٹاگون کے مرکزی ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ ”یہ کہانی گمنام ذرائع کی جانب سے پھیلائی گئی جھوٹی خبروں سے بھری پڑی ہے جنہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں اور وہ پینٹاگون کے اندر اصل فیصلہ سازوں سے بہت دور ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”سیکرٹری ہیگستھ کے تحت، فوجی ترقیاں صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہیں جو ان کے اہل ہوتے ہیں۔ اس محکمے میں رائج میرٹ کا نظام مکمل طور پر غیر سیاسی اور غیر جانبدارانہ ہے۔“

وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی آفیشل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Read Comments