آم فریج میں رکھتے ہیں؟ جانیے پھلوں کے بادشاہ کو کاغذ میں محفوظ رکھنے کی سائنسی وجوہات

پکنے کے عمل کے دوران آم سے 'ایتھیلین گیس' خارج ہوتی ہے, جانیے اس عمل میں کاغذ کے تھیلے آم کو شیریں کیسے بناتے ہیں؟
شائع 06 اپريل 2026 10:03am

موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی آموں کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن اس کی نزاکت اس کے ذائقے جتنی ہی اہم ہے۔ اکثر لوگ آموں کو ریفریجریٹر میں رکھنے یا پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کرنے کی غلطی کرتے ہیں، جس سے ان کا ذائقہ اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔ ماہرینِ خوراک کے مطابق، آموں کو پکانے اور محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ کاغذ کے تھیلوں کا استعمال ہے۔

آم ایک ایسا پھل ہے جو ٹوٹنے کے بعد بھی پکنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس عمل کے دوران آم سے ’ایتھیلین گیس‘ خارج ہوتی ہے۔ جب ہم آم کو کاغذ کے تھیلے میں رکھتے ہیں، تو یہ گیس تھیلے کے اندر ہی قید ہو جاتی ہے لیکن مکمل طور پر بند نہیں ہوتی۔ یہ گیس آم کو قدرتی طور پر، یکساں اور تیزی سے پکنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اس کی مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے۔

پلاسٹک کے برعکس، کاغذ کا مواد مسام دار ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت ہوا کی سرکولیشن کو برقرار رکھتی ہے۔ اگر آموں کو ہوا نہ ملے، تو وہ اندرونی حرارت کی وجہ سے بہت جلد گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کاغذ کے تھیلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پھل کو سانس لینے کا موقع ملے اور وہ حبس کا شکار نہ ہو۔

گرمیوں میں نمی یا موئسچر پھلوں کے جلد خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔ کاغذ کے تھیلے آم کی سطح پر آنے والی اضافی نمی کو جذب کر لیتے ہیں۔ اس سے پھپھوندی لگنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور آم کی جلد تازہ اور صاف رہتی ہے۔

مارکیٹ میں آموں کو مصنوعی طریقوں سے پکانے کے لیے اکثر کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے جو صحت کے لیے مضر ہو سکتے ہیں۔ گھر میں کاغذ کے تھیلے کا استعمال ایک مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ طریقہ ہے، جو کسی بھی قسم کے بیرونی کیمیکل کے بغیر پھل کو کھانے کے قابل بناتا ہے۔

آموں کو کاغذ کے تھیلے میں رکھنا محض ایک روایتی طریقہ نہیں بلکہ ایک سائنسی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف آموں کو جلد پکنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ان کے اصل ذائقے، خوشبو اور غذائیت کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ لہٰذا، اس موسمِ گرما میں اپنے آموں کو پلاسٹک یا فریج کی ٹھنڈک کے بجائے کاغذ کے تھیلوں کی قدرتی پناہ میں رکھیں تاکہ آپ اس کے بھرپور ذائقے سے لطف اندوز ہو سکیں۔

Read Comments