گردن کے مہروں کی تکلیف دل اور بلڈ پریشر کو متاثر کر سکتی ہے: نئی تحقیق
ریڑھ کی ہڈی کا سب سے اوپری حصہ جو ہماری گردن کو سہارا دیتا ہے، اسے طبی زبان میں سروائیکل اسپائن کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں عام طور پر لوگ اسے ’سروائیکل کی تکلیف‘ یا ’سروائیکل کا مسئلہ‘ کہہ کر پکارتے ہیں، جس سے مراد گردن کے مہروں، ان کے درمیان موجود لچکدار ڈسک اور وہاں سے گزرنے والے اعصاب میں ہونے والی کوئی بھی خرابی ہے۔
اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہمارا بدلتا ہوا طرزِ زندگی ہے، جس میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ کا بے جا استعمال سرِ فہرست ہے۔ جب ہم گھنٹوں گردن جھکا کر اسکرین کی طرف دیکھتے ہیں، تو اسے ’ٹیک نیک‘ کہا جاتا ہے، جو مہروں پر غیر ضروری دباؤ ڈال کر ان کی قدرتی ساخت کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق جب ہم موبائل فون دیکھنے کے لیے گردن کو 60 ڈگری تک آگے جھکاتے ہیں، تو طبیعیات کے اصولوں کے تحت گردن کی مہروں پر پڑنے والا بوجھ تقریباً 60 پاؤنڈ (تقریباً 27 کلوگرام) تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ سر کا اصل وزن صرف 10 سے 12 پاؤنڈ ہوتا ہے۔ اس خیال کو نیویارک کے مشہور ری ہیبلیٹیشن میڈیسن کے ماہر اور اسپائن سرجن ڈاکٹر کینتھ ہنسراج کی ایک تحقیق میں واضح کیا گیا ہے، جس کے مطابق آگے جھکنے کے ساتھ ساتھ گردن پر پڑنے والا بوجھ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ عمر بڑھنے کے ساتھ مہروں کے درمیان موجود کشن نما ڈسک کا خشک ہونا یا گھسنا بھی ایک فطری عمل ہے، جو درد اور اکڑن کا باعث بنتا ہے۔
سوتے وقت بہت اونچے تکیے کا استعمال یا اچانک بھاری وزن اٹھانا بھی مہروں کے درمیان جگہ کم ہونے کا سبب بن سکتا ہے، جسے لوگ عام طور پر مہروں میں گیپ آجانا بھی کہتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ سروائیکل کی علامات صرف گردن کے درد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ کافی پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔
متاثرہ فرد کو گردن میں شدید کھنچاؤ کے ساتھ ساتھ سر کے پچھلے حصے میں درد، چکر آنا اور بعض اوقات ہاتھوں یا انگلیوں کا سن ہونا محسوس ہوتا ہے۔
جدید طبی تحقیق کے مطابق، گردن کے مہروں کی ساخت میں خرابی براہِ راست دل کے افعال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ جب مہروں میں ہڈی کے غیر معمولی ابھار پیدا ہوتے ہیں، تو یہ اس خودکار اعصابی نظام میں مداخلت کرتے ہیں جو دل کی رفتار کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس معیار کو طبی زبان میں ’سروائیکو جینک کارڈیک ڈس رِدھمیا‘ کہا جاتا ہے، جس میں مہروں پر دباؤ آنے سے دل کی دھڑکن اچانک غیر معمولی طور پر کم ہو جاتی ہے اور مریض بے ہوشی محسوس کرنے لگتا ہے جسے اکثر لوگ غلطی سے دل کا عارضہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس لیے ان علامات کو نظر انداز کرنا اعصابی پیچیدگیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تشخیص کے عمل میں ڈاکٹروں نے جدید امیجنگ اور مانیٹرنگ کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات دل کی تکلیف کی اصل وجہ دل کے والوز میں نہیں، بلکہ گردن کے مہروں کی خرابی میں چھپی ہوتی ہے۔
یہ انکشاف اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ سینے میں درد یا دھڑکن کی بے ترتیبی کی صورت میں ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصے کا معائنہ کرنا بھی ناگزیر ہے، تاکہ اعصابی پیچیدگیوں کا بروقت سدِباب کیا جا سکے لہٰذا سروائیکل کی علامات کو پہچاننا انتہائی ضروری ہے۔
اس تکلیف سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سب سے اہم اور بہترین حکمت عملی ہے۔
سب سے پہلے اپنے بیٹھنے اور کھڑے ہونے کے انداز یا پوسچر کو درست کرنا ضروری ہے، یعنی کام کے دوران اسکرین کو آنکھوں کی سیدھ میں رکھیں تاکہ گردن پر بوجھ نہ پڑے۔
سوتے وقت ایسا تکیہ استعمال کریں جو گردن کے قدرتی خم کو سہارا دے، نہ کہ اسے غیر ضروری اونچائی پر لے جائے لہٰذا سوتے وقت گردن کی قدرتی ساخت کو برقرار رکھنے والے نرم اور مناسب اونچائی کے تکیے کا استعمال کریں۔
کام کے دوران اپنی اسکرین کو آنکھوں کی سطح پر رکھیں اور ہر آدھے گھنٹے بعد گردن کی ہلکی ورزش کریں تاکہ پٹھوں میں خون کی گردش برقرار رہے۔
طویل وقت تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے گریز کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر گردن کی ہلکی ورزشیں پٹھوں کو مضبوط بناتی ہیں اور مہروں کو اپنی جگہ برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان عوامل کو خاص اہمیت دیں۔
اگر درد کی شدت بڑھ جائے یا مسلسل درد یا بازوؤں میں کمزوری محسوس ہو، تو مستند فزیو تھراپسٹ یا ہڈیوں کے ماہر سے رجوع کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ہی آپ کو اس تکلیف دہ عارضے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
یہ مضمون صرف عام آگاہی کے لیے ہے، کسی بھی طبی تشخیص یا علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔