امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے: 6 بچوں سمیت 24 افراد شہید، تہران یونیورسٹی سمیت اہم تنصیبات تباہ
امریکا اوراسرائیل کے ایران پر شدید حملے جاری، تہران سمیت مختلف شہروں پر رات بھر بمباری کے نتیجے میں 6 بچوں سمیت 24 افراد شہید درجنوں زخمی ہوگئے۔ تعلیمی اداروں، مساجد اوررہائشی علاقوں کو بھی شید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے۔ حملوں میں معروف ادارے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تہران یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں عمارتوں، مسجد اور قریبی گیس اسٹیشن کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ چوتھی بڑی یونیورسٹی ہے جسے نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک درجنوں مساجد، اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر حملے رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں 6 بچے شہید ہوئے، جبکہ مختلف شہروں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔ مجموعی طور پر ایران پر حملوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں اندھا دھند بمباری کے نتیجے میں 3 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ 50 سے زائد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تہران کے علاوہ بُشہیر، خرج، شیراز اور اصفہان میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
جانی نقصان کی تفصیلات کے مطابق بندر لینگے میں 6 افراد، قم میں 5 افراد جبکہ بہارستان میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔
بیان کے مطابق کویت میں محمد الاحمد بحری اڈے کے قریب ایک مقام پر موجود امریکی کمانڈرز اور افسران کے اجتماع کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں ایمبولینسز کی بڑی تعداد میں آمد و رفت بھاری جانی نقصان کی نشاندہی کرتی ہے۔