ڈر یا جوش میں انسانوں کے رونگٹے کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟

سائنس کی ایک دلچسپ حقیقت جو ہمارے جسم کے ارتقائی ماضی سے جڑی ہوئی ہے۔
شائع 07 اپريل 2026 11:46am

ہم سب نے زندگی میں کبھی نہ کبھی محسوس کیا ہے کہ کسی ڈراؤنی فلم کو دیکھتے ہوئے، سردی لگنے پر یا کسی جذباتی گانے کو سنتے وقت اچانک ہماری جلد پر چھوٹے چھوٹے ابھاربن جاتے ہیں اور بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسے عام زبان میں ’رونگٹے کھڑے ہونا‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

سائنس کی ایک دلچسپ حقیقت ہے جو ہمارے جسم کے ارتقائی ماضی سے جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈر، جوش یا شدید جذبات میں رونگٹے کھڑے ہونا ایک فطری ردعمل ہے جو ہارمونز اور پٹھوں کی مدد سے پیدا ہوتا ہے ۔

انسان کی جلد کے نیچے ہر بال کی جڑ کے پاس ایک چھوٹا عضلہ یا پٹھا موجود ہوتا ہے جسے ایریکٹر پائیلی کہتے ہیں۔ جب ہم ڈر یا جوش کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ کا ایمگڈالا حصہ فوری طور پر ہارمون ایڈرینالین خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون پٹھوں کو سکڑنے پر مجبور کر دیتا ہے، جس سے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور جلد پر چھوٹے چھوٹے ٹیبوں کی طرح رونگٹے ابھر آتے ہیں۔ یہ ردعمل پیلوایریکشن کہلاتا ہے اور چند سیکنڈز میں ختم ہو جاتا ہے ۔

سردی میں بھی یہی عمل ہوتا ہے، جہاں جسم بالوں کو کھڑا کرکے گرم ہوا کی تہہ بناتا ہے، لیکن انسانوں میں بالوں کی کمی کی وجہ سے اب یہ زیادہ کارآمد نہیں رہا۔ البتہ جذبات میں یہ دماغ کی لمیبک سسٹم کی وجہ سے متحرک ہوتا ہے، جو خوشی، غم یا حیرت جیسے احساسات کو کنٹرول کرتی ہے ۔

اگرچہ موجودہ دور میں انسانوں کے لیے یہ عمل زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا، تاہم ہمارے قدیم اجداد اور دیگر ممالیہ جانوروں کے لیے اس کے دو نہایت اہم مقاصد تھے۔ پہلا مقصد سردی سے بچاؤ اور گرمی کا حصول تھا۔ جب جانوروں کے بال کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان ہوا کی ایک مخصوص تہہ بن جاتی ہے جو سردی کے خلاف ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔

چونکہ انسانوں کے جسمانی بال اب اتنے گھنے نہیں رہے، اس لیے ہمیں اب اس سے گرمی محسوس نہیں ہوتی۔ آج یہ صرف ایک فوسل ری ایکشن ہے جو موسیقی، فلموں یا جذباتی تقریر سنتے وقت رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔

دوسرا اہم مقصد دشمن کو ڈرانا یا خود کو بڑا دکھانا تھا، جیسے بلی یا دیگر جانور خطرے کے وقت اپنے بال کھڑے کر لیتے ہیں تاکہ وہ جسامت میں بڑے اور خوفناک نظر آئیں، بالکل اسی طرح قدیم انسانوں میں بھی یہ دفاعی نظام موجود تھا جو انہیں کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف مستعد دکھاتا تھا۔

حال ہی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ شدید موسیقی سننے پر دماغ کا نوڈیسٹری ایٹ علاقہ متحرک ہوتا ہے، جو رونگٹوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جوش اور ڈر دونوں ایک ہی سائنسی راستے سے جسم کو متاثر کرتے ہیں ۔

ڈر کی صورت میں جسم فائٹ یا فلائٹ موڈ میں چلا جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور رونگٹے دفاعی تیاری کا اشارہ ہیں، جبکہ جوش میں گانے یا محبت کے لمحات میں دماغ ڈوپامائن خارج کرتا ہے، جو خوشی کا باعث بنتا ہے اور رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔

آسان لفظوں میں، رونگٹے کھڑے ہونا ہمارے جسم کا ایک ایسا ’قدیم پروگرام‘ ہے جو اس وقت لکھا گیا تھا جب انسان کے جسم پر گھنے بال تھے اور اسے جنگل میں ہر وقت شکاریوں کا سامنا رہتا تھا۔ آج یہ صرف ایک حیرت انگیز جسمانی یادگار کے طور پر باقی ہے۔

یہ ردعمل نارمل ہے، البتہ بار بار ہونے پر تناؤ یا ہارمونل مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ سائنسی راز بتاتا ہے کہ ہمارا جسم اب بھی پرانے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔

Read Comments