ایران کی حفاظت کے لیے 1 کروڑ 40 لاکھ رضاکار جان دینے کو تیار ہیں: صدر پزشکیان

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع، بچوں سمیت 18 شہری شہید
اپ ڈیٹ 07 اپريل 2026 02:24pm

ایران کے صوبے البرز میں منگل کے روز ہونے والے ایک بڑے فضائی حملے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ تہران کے شمال مغرب میں واقع اس علاقے میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں 24 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق، ان حملوں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اصل ہدف کیا تھا۔

ان حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کے دارالحکومت تہران، پہاڑی علاقوں میں قائم اسلحہ خانوں اور مغربی ایران میں واقع خرم آباد کے ہوائی اڈے پر بھی شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی ایران کے شہر شیراز میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں مبینہ طور پر بیلسٹک میزائلوں اور دھماکہ خیز مواد کے لیے کیمیائی اجزاء تیار کیے جا رہے تھے۔

دوسری جانب اسرائیل اب ایران کے ریلوے نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ یہ نظام اسلحے کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر فارسی میں جاری پیغام میں ایرانی شہریوں کو ٹرین میں سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

ایرانی ہلالِ احمر نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگی جرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک بھر میں 17 سویلین علاقوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کا ایک مقصد مقامی آبادی کی زندگی مشکل بنا کر انہیں حکومت کے خلاف اکسانا بھی ہو سکتا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے عوام الٹا حکومت کے گرد متحد ہو سکتے ہیں۔

اس کشیدہ صورتحال اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کرنے کی ڈیڈ لائن کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ مجھ سمیت 1 کروڑ 40 لاکھ ایرانیوں نے جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر نام لکھوا دیے ہیں۔

صدر کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی ایران کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہیں۔

Read Comments