آبادی آؤٹ آف کنٹرول: زمین کی سکت جواب دے گئی، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

پروفیسر بریڈ شا کا کہنا ہے کہ زمین اب بڑھتی آبادی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔
شائع 07 اپريل 2026 02:13pm

دنیا کے نامور ماہرین کی ایک نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی تعداد اب اس حد سے تجاوز کر چکی ہے، اور موجودہ وسائل کے استعمال کے معیار پر یہ بڑھتی ہوئی آبادی پائیدار نہیں رہ سکتی۔

آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر کوری بریڈ شا کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں گزشتہ دو سو سالوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانیت اب ان قدرتی حدود سے بہت آگے نکل چکی ہے جن کے اندر رہ کر زمین اپنے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماحول دوست نظام میں کسی بھی جگہ کی آبادی سنبھالنے کی حد سے مراد جانداروں کی وہ تعداد ہوتی ہے جو دستیاب وسائل اور ان کے دوبارہ بننے کی رفتار کے مطابق وہاں زندہ رہ سکے۔

تحقیق کے مطابق انسانوں نے ٹیکنالوجی اور خاص طور پر فوسل فیولز یعنی کوئلے اور تیل کے بے دریغ استعمال سے ان قدرتی حدود کو عارضی طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آبادی سنبھالنے کی حد یا ’کیریئنگ کیپیسٹی‘ کی اصطلاح 1880 کی دہائی میں جہاز رانی کی صنعت سے نکلی تھی جب یہ حساب لگایا جاتا تھا کہ ایک بحری جہاز اپنے ایندھن اور عملے کی جگہ بچاتے ہوئے کتنا سامان لے جا سکتا ہے۔ اسی ایندھن کے استعمال نے بیسویں صدی میں انسانی آبادی کو تیزی سے بڑھنے کا موقع دیا لیکن حالیہ عالمی حالات اور ایندھن کی سپلائی میں آنے والے جھٹکوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ نظام کتنا کمزور ہے۔

اس وقت دنیا کی آبادی تقریبا 8 ارب 30 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین نے دو طرح کی حدود کا تعین کیا ہے جن میں سے ایک انتہائی حد ہے جہاں قحط اور بیماریوں کے باوجود بس انسانوں کا گزارا ہوتا رہے، جبکہ دوسری مثالی حد ہے جہاں ہر انسان کو بہترین معیار زندگی اور پائیدار وسائل میسر ہوں۔

اس تحقیق کے مطابق زمین کے وسائل کے موجودہ استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں کے لیے مثالی آبادی صرف ڈھائی ارب ہونی چاہیے، جبکہ موجودہ آبادی اس سے تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔

پروفیسر بریڈ شا کا کہنا ہے کہ زمین اب اس بوجھ کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 1960 کی دہائی سے آبادی کے بڑھنے کی رفتار میں کچھ کمی تو آئی ہے لیکن مجموعی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو2070 کی دہائی تک انسانی آبادی 12 ارب کے قریب پہنچ کر اپنی بلند ترین سطح کو چھو لے گی۔

یہ وہ آخری حد ہوگی جہاں زمین کے پاس دینے کے لیے مزید کچھ نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں پانی کی شدید قلت اور جانوروں کی نسلوں کا تیزی سے ختم ہونا اسی بڑھتی ہوئی آبادی کا نتیجہ ہے کیونکہ انسان اور دیگر جاندار اب محدود وسائل کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ زمین پر پڑنے والے ماحولیاتی اثرات اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف فی کس استعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانوں کی مجموعی تعداد کی وجہ سے ہے۔

اگرچہ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر قومیں مل کر توانائی، زمین اور خوراک کے استعمال کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں لائیں تو اس تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔

انسانیت کو اب ایسے سماجی اور ثقافتی رویے اپنانے ہوں گے جو وسائل کو بچانے اور آبادی کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مستحکم اور محفوظ زمین پر سانس لے سکیں۔

Read Comments