توانائی بحران، پاکستان میں سولر پینلز نے ملک کو کیسے بچائے رکھا؟

2018 سے اب تک سولر پاور کے استعمال سے پاکستان نے ایندھن کی درآمدات میں 12 ارب ڈالرز کی بچت کی ہے۔
اپ ڈیٹ 08 اپريل 2026 01:36pm

پاکستان میں سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کو ایران اور امریکا کی حالیہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بدترین بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان کے ایک دور افتادہ گاؤں دشت کے کسان کریم بخش کی کہانی اس بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، برسوں تک اپنی فصلوں کو پانی دینے کے لیے مہنگے ڈیزل پر انحصار کرنے والے کریم بخش نے 2022 میں ایندھن کی قیمتیں بڑھنے پر قرض لے کر سولر پینل لگوائے تھے۔

کریم بخش کا کہنا ہے کہ اب مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ڈیزل کی قیمت بڑھے یا نہ بڑھے، جب تک یہ سورج چمک رہا ہے، میں اپنی فصلیں اگا سکتا ہوں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر پانی نہیں ہوگا تو فصل نہیں ہوگی، اور اگر فصل نہیں ہوگی تو پیسہ نہیں آئے گا، اسی لیے یہ فیصلہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے 80 فیصد تیل اور 99 فیصد گیس کی درآمد پر انحصار کرتا ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، اور یہ راستہ اس وقت جنگ کی وجہ سے بند ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ بند رہتا ہے تو ملک میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں گھروں اور کھیتوں کی چھتوں پر لگنے والے لاکھوں سولر پینلز نے اس اثر کو کم کر دیا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 2018 سے اب تک سولر پاور کے استعمال سے پاکستان نے ایندھن کی درآمدات میں 12 ارب ڈالرز کی بچت کی ہے۔

رینوایبل فرسٹ کی ڈیٹا مینیجر رابعہ بابر نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کا شمسی انقلاب اسلام آباد کے کسی دفتر میں نہیں بلکہ عوام کی چھتوں پر بنا ہے، اور آج یہی پینلز ملک کی توانائی کی سلامتی کے لیے سب سے مؤثر حکمت عملی ثابت ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 2020 میں شمسی توانائی کا حصہ محض 2.9 فیصد تھا جو 2025 تک بڑھ کر 32.3 فیصد ہو چکا ہے۔

گیلپ سروے کے مطابق ملک کے تقریباً 25 فیصد گھرانوں میں اب کسی نہ کسی شکل میں شمسی توانائی استعمال ہو رہی ہے۔

لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں مڈل کلاس طبقہ بجلی کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے تیزی سے سولر کا رخ کر رہا ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے وہ اضافی بجلی حکومت کو بیچ کر پیسے بھی کما رہے ہیں۔

تاہم ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ یہ سہولت صرف وہ لوگ حاصل کر پا رہے ہیں جن کے پاس سرمایہ ہے، جبکہ غریب طبقہ اب بھی مہنگی بجلی اور گرڈ کے اخراجات کا بوجھ اٹھا رہا ہے، جس سے توانائی کا ایک غیر مساوی نظام جنم لے رہا ہے۔

اس شمسی انقلاب کے پیچھے چین کا کلیدی کردار ہے جہاں سے سستے سولر پینلز اور بیٹریوں کی درآمد نے اسے عام آدمی کی پہنچ میں کر دیا ہے۔

تربت یونیورسٹی کے ایک الیکٹریکل انجینئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ بتایا کہ یہ سستے چینی پینلز ترقی پذیر ممالک میں متبادل توانائی کے شعبے کو بدل رہے ہیں، لیکن پاکستان ایندھن کے بجائے اب ٹیکنالوجی کے لیے دوسرے ملک پر منحصر ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2018 میں پاکستان صرف ایک گیگا واٹ بجلی شمسی ذرائع سے پیدا کر رہا تھا جو 2026 کے آغاز تک 51 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔

جہاں حکومت نیٹ میٹرنگ کی پالیسیوں میں تبدیلیاں کر رہی ہے، وہیں کریم بخش جیسے کسانوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی کسی نعمت سے کم نہیں، جن کا کہنا ہے کہ اب دنیا میں کچھ بھی ہو جائے، ان کے کھیتوں میں پانی بہتا رہے گا۔

Read Comments