اوورسیز پاکستانیوں کے لیے او پی ایف ممبرشپ لازمی بنانے کا منصوبہ، فیس کیا ہوگی؟

تمام تارکینِ وطن کے لیے 'اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن' کی رکنیت لازمی قرار؟
شائع 08 اپريل 2026 01:08pm

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے حکومتِ پاکستان کو ایک اہم تجویز پیش کی ہے جس کے تحت تمام سمندر پار پاکستانیوں کے لیے فاؤنڈیشن کی رکنیت کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس رکنیت کے لیے 10 ہزار روپے فیس مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو کہ 5 سال کی مدت کے لیے ہوگی۔

او پی ایف کے چیئرمین سید قمر رضا نے ’خلیج ٹائمز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ تمام سمندر پار پاکستانیوں کو لازمی طور پر او پی ایف کا رکن ہونا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر تمام پاکستانی اس فاؤنڈیشن کے رکن بن جاتے ہیں، تو ادارے کے پاس موجود مالی وسائل کی بدولت وہ ان کی بہتر خدمت کر سکیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارتِ سمندر پار پاکستانیز نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے اور اب یہ حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھیج دی گئی ہے۔

سید قمر رضا نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت دنیا بھر میں مقیم ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے سہولیات کا ایک وسیع سلسلہ متعارف کروایا جائے گا۔

اس کا اطلاق متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر تمام خطوں میں رہنے والے پاکستانیوں پر ہوگا۔

سمندر پار پاکستانی اپنی سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے بعد، توقع ہے کہ رواں برس یہ رقم 41 سے 42 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا، جو پچھلے سال کے 24 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

فروری 2026 کے اعداد و شمار

فروری 2026 کے دوران پاکستان کو 3.3 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو سالانہ بنیادوں پر 5.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان ترسیلات میں سب سے زیادہ حصہ متحدہ عرب امارات سے آیا، جہاں سے 696.2 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب سے 685.5 ملین ڈالر، برطانیہ سے 532 ملین ڈالر اور امریکا سے 319.5 ملین ڈالر کی ترسیلات آئیں۔

واضح رہے کہ صرف متحدہ عرب امارات میں 20 لاکھ سے زائد پاکستانی زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سید قمر رضا اس وقت دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ سمندر پار پاکستانیوں کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے حال ہی میں جرمنی، جنوبی کوریا اور جاپان کا دورہ کیا جہاں اعلیٰ حکام اور کمیونٹی ممبران سے ملاقاتیں کیں۔

اپنے دورۂ یو اے ای کے دوران انہوں نے میاں منیر ہنس، اقبال داؤد، سید سالم اختر اور قونصل خانہ کے حکام سمیت دیگر کاروباری شخصیات سے ملاقات کی، جہاں انہیں کمیونٹی کے مسائل سے آگاہ کیا گیا۔

Read Comments