بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لیے کون سا نمک خریدیں؟

اس تحقیق میں ماہرین نے 29,570 افراد پر مشتمل 21 مختلف طبی آزمائشوں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
شائع 09 اپريل 2026 01:16pm

جدید سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری خوراک میں ہونے والی معمولی سی تبدیلی ہماری زندگی کو طویل اور صحت مند بنا سکتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کو طبی دنیا میں اکثر ’خاموش قاتل‘ کا نام دیا جاتا ہے، اور اس مہلک کیفیت کی ایک بڑی وجہ عام نمک کا کثرت سے استعمال ہے لیکن ایک حالیہ سائنسی پیش رفت نے اس کا ایک بہترین حل پیش کیا ہے۔

یکم اپریل کو جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی۔ایشیا میں شائع ہونے والی ایک جامع سائنسی تحقیق کے مطابق، عام نمک کی جگہ متبادل نمک کا استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے کا ایک نہایت آسان اور مؤثر طریقہ ثابت ہوا ہے، جو بالواسطہ طور پر دل کی بیماریوں کے خطرے میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس تحقیق میں ماہرین نے 29 ہزار 570 افراد پر مشتمل 21 مختلف طبی آزمائشوں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ اس بڑے پیمانے کے تجزیے کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ مختلف حالات اور استعمال کے طریقوں میں نمک کی تبدیلی انسانی صحت، خصوصاً بلڈ پریشر، پر کس حد تک مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

متبادل نمک کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

عام نمک بنیادی طور پر سوڈیم کلورائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے، جس کی زیادتی خون کی نالیوں میں تناؤ پیدا کر کے بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے برعکس، متبادل نمک یا پوٹاشیم سالٹ کی تیاری میں سوڈیم کی مقدار کو کم کر دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ پوٹاشیم کلورائیڈ شامل کیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی دوہرا فائدہ پہنچاتی ہے۔ ایک طرف جسم میں سوڈیم کا نقصان دہ بوجھ کم ہوتا ہے اور دوسری طرف پوٹاشیم کی مقدار بڑھتی ہے، جو خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کر کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس ریسرچ کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متبادل نمک کا باقاعدہ استعمال سسٹولک (اوپر والا) اور ڈائیسٹولک (نیچے والا) دونوں قسم کے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں انتہائی مؤثر ہے۔

اس ریسرچ کی سب سے دلچسپ دریافت یہ ہے کہ نمک کے متبادل کا اثر اس جگہ کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے جہاں کھانا تیار کیا جا رہا ہو۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جب یہ نمک گھروں میں استعمال کیا گیا تو بلڈ پریشر میں 4.2 mm Hg کی کمی ہوئی، لیکن جب یہی تجربہ اجتماعی جگہوں جیسے کہ ہاسٹلز یا کینٹینز میں کیا گیا، تو بلڈ پریشر میں کمی کی شرح تقریباً دوگنی یعنی 7.7 mm Hg تک دیکھی گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پروفیشنل جگہوں یا اجتماعی کچن میں باورچی نمک کی مقدار پر بہتر کنٹرول رکھتے ہیں، جبکہ گھروں میں انسان اکثر اپنے ذائقے یا عادت کی بنیاد پر نمک کا استعمال کم یا زیادہ کر دیتا ہے۔

پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں نمک کا استعمال عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیوایچ او‘ کی تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ ہے، جہاں سالن، اچار اور بازاری کھانوں کی بہتات ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔

طبی نقطہ نظر سے بلڈ پریشر کا بڑھنا دل کے امراض کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے۔ جب خون کا دباؤ مستقل زیادہ رہتا ہے، تو یہ جسم کی اہم شریانوں کو سخت اور تنگ کر دیتا ہے، جس سے دل کو خون پمپ کرنے کے لیے معمول سے کہیں زیادہ طاقت لگانی پڑتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اضافی بوجھ دل کے پٹھوں کو کمزور کر دیتا ہے، جو بالآخر ہارٹ فیل کا سبب بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، فالج کے دو تہائی اور دل کی شریانوں کے امراض کے تقریباً نصف کیسز کی اصل وجہ ہائی بلڈ پریشر ہی ہوتا ہے، اس لیے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا براہِ راست دل کو جان لیوا دوروں اور فالج سے محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔

صحت کے تحفظ کے حوالے سے یہ تحقیق بتاتی ہے کہ متبادل نمک، جس میں پوٹاشیم کلورائیڈ کی مقدار 30 فیصد تک ہو، عام عوام کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور ذائقے میں عام نمک جیسا ہی ہوتا ہے۔ 80 فیصد سے زائد افراد عام نمک اور اس متبادل میں فرق بھی محسوس نہیں کر پائے۔

اس سائنسی مطالعے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر عام انسان اپنی روزمرہ خریداری میں ہوشیاری سے کام لے اور ایسا نمک منتخب کرے جس کے لیبل پر سوڈیم کم اور پوٹاشیم کی موجودگی درج ہو، تو وہ بغیر کسی اضافی مشقت کے ایک بڑی طبی تبدیلی لا سکتا ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ حکومت اور صحت کے اداروں کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جن کے ذریعے متبادل نمک کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔ اگر اسے بڑے پیمانے پر اپنا لیا جائے تو اس کے طبی فوائد کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کسی بھی طبی مسئلے میں مبتلا افراد، خصوصاً ’گردوں کے امراض‘ کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ پوٹاشیم کی زیادہ مقدار کے باعث اس متبادل نمک کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے لازماً مشورہ کریں۔

Read Comments