’شہنشاہ پینگوئن‘ کی بقا خطرے میں، ماہرین ماحولیات کی وارننگ

صرف 2009 سے 2018 کے دوران ان کی آبادی میں 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
شائع 10 اپريل 2026 10:20am

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تپش اور پگھلتی برف نے قطب جنوبی کے باسیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ عالمی ماحولیاتی ادارے نے شہنشاہ پینگوئن کو ایسی انواع کی فہرست میں شامل کرلیا ہے جن کی بقا خطرے سے دوچار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی آبادی میں تیزی سے کمی ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

انٹرنشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر ( آئی یو سی این) کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اس بحران کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں سمندری برف وقت سے پہلے ٹوٹنے لگی ہے اور پینگوئنز کی افزائشِ نسل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق گر ماحولیاتی تبدیلیوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک ان کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد کمی آ سکتی ہے، جبکہ ہوسکتا ہے کہ 2100 تک ان کا مکمل خاتمہ ہوجائے۔

یہ دنیا کے واحد پرندے ہیں جو انٹارٹیکا کی سخت سردیوں میں افزائش نسل کرتے ہیں، جہاں کا درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سیلسیئس تک گر جاتا ہے اور ہوائیں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔ تاہم بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس برف کو تیزی سے پگھلا رہا ہے، جس سے ان کا قدرتی مسکن سکڑتا جا رہا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، صرف 2009 سے 2018 کے دوران ان کی آبادی میں 10 فیصد (تقریباً 20,000 بالغ پینگوئن) کی کمی واقع ہوئی۔

مزید یہ کہ برف میں کمی صرف رہائش ہی نہیں بلکہ خوراک کے نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ سمندری برف کم ہونے سے ’کرل‘ کی تعداد گھٹ رہی ہے، جو ان جانوروں کی بنیادی خوراک ہے۔

درجہ حرارت بڑھنے سے یہ آبی حیات گہرے اور ٹھنڈے پانیوں میں چلی جاتی ہے، جہاں تک پہنچنا سیلز اور پینگوئنز کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

برڈ لائف انٹرنیشنل کے سی ای او مارٹن ہارپر کا کہنا تھا کہ پینگوئنز کا ’ان ڈینجرڈ‘ لسٹ میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ایک نسل کو ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی معیشتوں کو کاربن سے پاک کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔

یہ رپورٹ محض ایک فہرست نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک سخت وارننگ ہے کہ اگر آج ہم نے اپنی زمین کو بچانے کی کوشش نہ کی تو انٹارکٹیکا کے یہ شاہانہ مسافر ہمیشہ کے لیے قصہ پارینہ بن جائیں گے۔

Read Comments