پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان

عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
اپ ڈیٹ 10 اپريل 2026 05:24pm

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 78 سے 100 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 70 سے 78 روپے تک کمی متوقع ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 90 سے 100 روپے فی لیٹر تک سستا کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچایا جائے گا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے تعین کے لیے آج آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ورکنگ تیار کرے گی، جس کے بعد پیٹرولیم ڈویژن وزیراعظم سے مشاورت کے بعد حتمی منظوری حاصل کرے گا۔ نئی قیمتوں کا اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں تین روز تک تیل کی قیمتوں میں تقریباً 17 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد قیمتوں میں تقریباً 16 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ ہفتے کے آخری روز عالمی سطح پر قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا۔

امریکا ایران جنگ: پیٹرول کی قیمت کتنی بار بڑھیں اور کم ہوئیں؟

ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور بعد ازاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

دستیاب معلومات کے مطابق ایران اسرائیل امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 بار تبدیلیاں دیکھنے آئیں، جن میں 2 بار قیمتوں میں بڑا اضافہ اور ایک بار نمایاں کمی شامل ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔

اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

اس کے بعد دوسری بار 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی تھی۔

بعد ازاں عوامی ردعمل اور عالمی قیمتوں میں جزوی کمی کے تناظر میں حکومت نے ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد قیمت کم ہو کر تقریباً 378 روپے فی لیٹر پر آ گئی۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے اور ایران جنگ کے باعث سپلائی میں خلل نے قیمتوں کو مسلسل متاثر کیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث مستقبل میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے۔

Read Comments