ایران امریکا جنگ بند ہونے کے باوجود عالمی معیشت مزید خراب ہوگی: ورلڈ بینک

عالمی معیشت خطرے میں، ورلڈ بینک نے جنگ کے سنگین اثرات سے خبردار کر دیا، پاکستان میں ہونے والے مذاکرات پر دنیا کی نظریں
شائع 11 اپريل 2026 09:25am

ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی معیشت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرے گی، چاہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی برقرار ہی کیوں نہ رہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اجے بنگا نے واضح کیا کہ اگر یہ جنگ بندی ناکام ہوتی ہے اور تنازع مزید بڑھتا ہے تو معاشی نقصانات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔

ان کے مطابق جنگ کے باعث عالمی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جبکہ مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جو عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، اگر جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے تب بھی عالمی ترقی کی شرح میں اعشاریہ تین سے اعشاریہ چار فیصد تک کمی آئے گی، لیکن جنگ طویل ہونے کی صورت میں یہ کمی ایک فیصد تک جا سکتی ہے۔

اسی طرح ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کی شرح جو پہلے تین فیصد رہنے کی توقع تھی، اب بڑھ کر تقریباً پانچ فیصد اور انتہائی صورتحال میں پونے سات فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اجے بنگا کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں پچاس فیصد اضافہ کر دیا ہے، جبکہ گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل کے ساتھ ساتھ سیاحت اور فضائی سفر کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والی یہ بات چیت دیرپا امن اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا سبب بنے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور دوبارہ لڑائی شروع ہوتی ہے تو توانائی کے ڈھانچے پر اس کے اثرات بہت طویل اور تباہ کن ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک ان ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے جن کے پاس توانائی کے اپنے وسائل نہیں ہیں، تاہم انہوں نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے بھاری انرجی سبسڈیز سے گریز کریں جو ان کے مستقبل کے لیے بوجھ بن جائیں۔

اجے بنگا نے نائیجیریا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کسی ملک کو بحران سے بچا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نائیجیریا نے اپنی ریفائنریز میں سرمایہ کاری کر کے نہ صرف اپنی توانائی کی سیکیورٹی یقینی بنائی بلکہ وہ اب پڑوسی ممالک کو بھی ایندھن فراہم کر رہا ہے۔

ورلڈ بینک اس وقت کئی ممالک کے ساتھ مل کر بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی اور پن بجلی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ روایتی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اب اپنی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی بحران کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔

Read Comments