مائیکل جیکسن کی بایوپک کا پریمیئر، ہزاروں مداح اُمڈ آئے
پاپ موسیقی کے بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم ’مائیکل‘ کے عالمی پریمیئر کے موقع پر مداحوں کی بڑی تعداد جرمنی کے دارالحکومت برلن پہنچ گئی۔ جس کی وجہ سے شہر ایک بڑے میوزیکل فیسٹیول کا تاثر دینے لگا۔
ہزاروں میل کا سفر طے کر کے آنے والے ان دیوانوں نے شہر کو ’مون واک‘ کے رنگ میں رنگ دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے برسوں بعد بھی جیکسن کا سحر ختم نہیں ہوا۔
جمعہ کے روز برلن میں ہونے والا یہ گرینڈ پریمیئر فلم کی باضابطہ ریلیز سے تقریباً دو ہفتے قبل منعقد کیا گیا۔
تقریب میں تقریباً 4,000 خوش نصیب مداحوں کو ٹکٹ قرعہ اندازی کے ذریعے داخلے کا موقع ملا، جبکہ باقی شائقین کے لیے برلن میں مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان سرگرمیوں میں مائیکل جیکسن کی زندگی پر مبنی نمائشیں، پینل ڈسکشنز اور تھیمڈ ایونٹس شامل تھے۔
پریمیئر کے دوران کئی مداحوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ اینڈٹی اسکوبار، جو پیشے سے ایئر کرافٹ مکینک ہیں، کا کہنا تھا کہ اسکول میں ان کا نام ہی ’ایم جے‘ پڑ گیا تھا کیونکہ ان کی مائیکل سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔
اسی طرح فرانس سے آئی میگن کٹلر نے بھی اپنے پسندیدہ اسٹار کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
مائیکل جیکسن کی زندگی جہاں شہرت سے بھری تھی، وہیں وہ سنگین الزامات کی زد میں بھی رہے۔ اس فلم کی ریلیز میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بھی یہی بنی۔
پہلے یہ فلم اپریل 2025 میں پیش کی جانی تھی، لیکن قانونی پیچیدگیوں اور کہانی میں تبدیلیوں کی وجہ سے اسے اب ریلیز کیا جا رہا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ فلم کا ایک تہائی حصہ اس وقت کاٹنا پڑا جب وکلاء نے بعض پرانے معاہدوں کی طرف اشارہ کیا۔
اس بائیوپک کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ مائیکل جیکسن کا کردار ان کے اپنے بھتیجے جعفر جیکسن نے ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے فلم کو پہلے ہی عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
فلمی ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فلم دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بائیوپکس میں شامل ہوگی۔
فلم ساز ادارہ ’لائنز گیٹ‘ اس فلم سے عالمی سطح پر 70 کروڑ ڈالر کی کمائی کی توقع کر رہا ہے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو یہ ’بوہیمین ریپسوڈی‘ کے بعد موسیقی کی دنیا پر بننے والی دوسری کامیاب ترین فلم بن جائے گی۔
مائیکل جیکسن، جو 2009 میں 50 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، آج بھی اپنی موسیقی اور رقص کے ذریعے کروڑوں دلوں پر راج کر رہے ہیں اور برلن میں ہونے والا یہ جوش و خروش اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔