اسلام آباد مذاکرات:بھارتی میڈیا کو دنیا بھر میں شرمندگی کا سامنا، صحافی کی لائیو شو میں بے عزتی
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا-ایران مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے۔ امریکی اور ایرانی وفد کی آمد پر پاکستان نے بھرپور استقبال کیا ہے جسے دیکھ کر بھارت بے چینی کا شکار ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی نظریں پاکستان میں جاری مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں اور معروف انڈین صحافیوں کی جانب سے جعلی خبروں کے ذریعے پروپیگنڈا بھی جاری ہے۔
بھارتی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے زیرِ اثر میڈیا بین الاقوامی امور کے ماہرین کو مدعو کر کے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے، تاکہ ان بیانات کو سوشل میڈیا پر پھیلا کر پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ تاہم اس مہم میں بھی بھارتی میڈیا کو شدید سبکی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی چینل ٹائمز ناؤ کے اینکر کو لائیو شو میں کھری کھری سُنادی۔ پاکستان میں امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کی سیکیورٹی پر احمقانہ سوال کرنے پر بھارتی اینکر کو سابق امریکی سفارت کار جیفری گنٹر نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر پاکستان میں مکمل محفوظ ہیں۔
امریکی سفارت کار جیفری گنٹر کا مزید کہنا تھا یہ انسانی زندگیوں اور انسانیت کا معاملہ ہے، یہ بھارتیوں اور امریکیوں کے لیے مہنگی پیٹرولیم مصنوعات اور روزگار کا مماملہ ہے، لیکن آپ لوگ اس معاملے کو پاکستان بھارت تنازع میں گھسیٹ رہے ہیں جو انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بھارتی میڈیا کو اس کے شرمناک رویے پر بطور سزا 30 منٹ کے لیے کمرے میں بند کرنا چاہوں گا۔ بھارتی میڈیا کو بے کاربحث و مباحثے میں الجھنے کے بجائے جنگ بندی کو سراہنا چاہیے۔
وہیں بھارتی میڈیا نے ایک اور جھوٹی خبر پھیلانے کی کوشش کی جس پر اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان آنے سے قبل ہی واپسی کا راستہ اختیار کرلے گا اور وہ اسلام آباد مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ تاہم جے ڈی وینس کی پاکستان آمد دیکھ کر بھارت کا جھوٹا بے نقاب ہوگیا۔
اُدھر بھارت کے متنازع ترین اینکر پرسن ارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں چین سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہر وکٹر گاؤ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال پوچھا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے سے لیکر یکطرفہ جنگ بندی کے درمیان کیا کچھ ہوا؟
وکٹر گاؤ نے اپنے جواب کا آغاز پاکستان کی تعریف سے کرتے ہوئے کہا سب سے پہلے تو آپ کو پاکستان کو اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیے کہ اس نے ان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کی ماحول فراہم کیا۔ پاکستان کی تعریف سنتے ہی بھارتی اینکر حواس باختہ ہو گیا اور وکٹر گاؤ کو اس سے آگے بولنے کی اجازت ہی نہ دی جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔