جنگ پر جوا: پولی مارکیٹ کے گمنام سٹے باز جو انسانی زندگیوں پر داؤ لگا رہے ہیں

پولی مارکیٹ کے گمنام جواریوں نے جنگ و امن کو 'کیسینو' بنا دیا۔
شائع 12 اپريل 2026 12:39pm

‘پولی مارکیٹ‘ نامی ایک آن لائن پلیٹ فارم پر اس وقت ایک عجیب و غریب معیشت پروان چڑھ رہی ہے، جہاں خبروں کی صداقت کا فیصلہ صحافی نہیں بلکہ جواری کر رہے ہیں۔

برطانیہ کے اخبار ’دی گارڈین’ کی ایک حالیہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح ہزاروں گمنام افراد جنگوں، حملوں اور عالمی سیاست کے نتائج پر کروڑوں ڈالرز کا جوا کھیل رہے ہیں۔

یوکرین کے محاذ سے لے کر امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی تک، ہر اس واقعے پر شرطیں لگی ہوئی ہیں جس میں انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر، یوکرین کے ایک شہر پر روسی قبضے کے حوالے سے پانچ لاکھ ڈالرز سے زیادہ کی شرط لگی ہوئی ہے، اور ان جواریوں کے لیے انسانی زندگیوں سے زیادہ یہ اہم ہے کہ نقشہ بنانے والے ادارے کب اس شہر کو روسی کنٹرول میں دکھاتے ہیں۔

پولی مارکیٹ خود کو ’مستقبل کی پیش گوئی کرنے والا بازار‘ کہتی ہے، جہاں لوگ ڈیٹا کی بنیاد پر شرطیں لگاتے ہیں۔

پلیٹ فارم کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹی وی نیوز سے زیادہ تیزی سے سچائی سامنے لاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی، تو اس پلیٹ فارم پر 28 کروڑ ڈالرز کی شرطیں صرف اس بات پر لگی تھیں کہ جنگ بندی ہوگی یا نہیں۔

ایک جواری نے پیغام رساں ایپ ٹیلیگرام پر لکھا کہ اگر امریکا کو ایران کا یورینیم مل جاتا ہے تو امن ہو جائے گا، جبکہ ایک اور صارف نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حالات بگڑے تو تیسری عالمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔

لیکن اس ’جوئے خانے‘ کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ جواری اب خبروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں جواریوں نے ایک اسرائیلی صحافی کو دھمکیاں دیں کہ وہ اپنی خبر میں تبدیلی کرے، تاکہ وہ اپنی شرط جیت سکیں۔

امریکی سینیٹرز نے اس صورتحال کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے پولی مارکیٹ پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب، جنگی ماہرین اور نقشہ بنانے والے اداروں نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔

ایک ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی محنت اور مصنوعات کو جنگ پر جوئے جیسے گھناؤنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ہم نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی۔

اس نظام میں ’سچ‘ کا فیصلہ وہ گمنام لوگ کرتے ہیں جن کے پاس مخصوص ڈیجیٹل کرنسی ہوتی ہے۔ اگر کسی بات پر تنازع ہو جائے، مثلاً یہ کہ کیا کسی میزائل حملے کو ’حملہ‘ تصور کیا جائے گا یا نہیں، تو یہ گمنام افراد ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بدعنوانی کا راستہ کھولتا ہے کیونکہ فیصلہ کرنے والے خود بھی اس شرط پر پیسے لگا چکے ہوتے ہیں۔

جوزف فرانسیا، جو ایک آن لائن کمیونٹی چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ کوئ بھی جنگ یا لوگوں کے مرنے سے پیسہ نہیں کمانا چاہتا، لیکن جب آپ جنگ کے بادلوں میں گھرے ہوں اور آپ کو یہ نہ پتہ چلے کہ کیا سچ ہے اور کیا پروپیگنڈا، تو لوگ پولی مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بڑے سرمایہ کار اور بینک پولی مارکیٹ کے اعداد و شمار کو ’سچ کا سگنل‘ مان کر فیصلے کرنے لگے، تو چند امیر جواری پوری دنیا کی معیشت کو اپنی مرضی سے چلا سکیں گے۔

گولڈ مین سیکس اور نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے مالکان جیسے بڑے ادارے پہلے ہی اس میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا خطرناک کھیل ہے جہاں سچائی کی قیمت ڈالرز میں لگائی جا رہی ہے اور انسانی المیے محض ایک جوئے کی بساط بن کر رہ گئے ہیں۔

Read Comments