ایران کے پاس ہزاروں میزائل اور لانچرز کی موجودگی کا انکشاف: امریکی انٹیلی جنس حیران
امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے واقف حکام کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جنہیں زیرِ زمین اسٹوریج سے لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی کوشوں میں مصروف ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا مقصد نہ صرف بحری راستوں کی بحالی ہے بلکہ ایران، امریکی افواج اور خطے کی ریاستوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اس وقفے کو اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لانچرز و میزائل ناکار ہو گئے ہیں۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے سے جزوی طور پر مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران کے نصف سے زائد میزائل لانچرز یا تو تباہ، نقصان زدہ یا زیر زمین پھنس چکے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد کو مرمت کر کے یا زیر زمین کمپلیکس سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کا میزائل ذخیرہ مجموعی طور پر تقریباً آدھا رہ گیا ہے، تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ میزائل زیر زمین چھپائے گئے مقامات یا خفیہ اسٹوریج سے دوبارہ استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایران کے پاس موجود ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم رہ گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں اور ایران کی پیداواری صلاحیت کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے متاثر کیا ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی پر ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر کے اپنے دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس اب بھی محدود تعداد میں کروز میزائل موجود ہیں جو خلیج فارس میں بحری جہازوں یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تقریباً دو تہائی بیلسٹک میزائل لانچرز جنگ کے دوران ناکارہ ہو چکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی اب بھی مرمت یا زیر زمین سے نکالے جا سکتے ہیں۔
اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود تقریباً 2500 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے اب بھی 1000 سے زائد باقی ہیں، جبکہ باقی استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور اعلیٰ امریکی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ حالیہ حملوں نے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کے مطابق امریکا نے 13 ہزار سے زائد بم استعمال کیے جن کے ذریعے میزائل اور ڈرون اسٹوریج مراکز، بحری اثاثے اور دفاعی صنعت کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کے اظہار کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔
اُدھر واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر جون آلٹر مین کے مطابق ایران اپنی محدود صلاحیت کے باوجود خلیج کے خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ہر دن جب ایران شکست نہیں کھاتا وہ اس کے لیے فائدہ ہے، اور ہر دن جب مخالفین مکمل کامیابی حاصل نہیں کرتے وہ ان کے لیے نقصان ہے۔