یو اے ای کا قرض واپس کرنے کے لیے پاکستان کی نئی حکمتِ عملی

'کیا متحدہ عرب امارات کے قرض کی جگہ سعودی عرب سے نیا قرض لینے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے؟'
اپ ڈیٹ 14 اپريل 2026 01:22pm

پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور رواں ماہ متحدہ عرب امارات کے ساڑھے تین ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے واشنگٹن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت یورو بانڈز، سکوک، تجارتی قرضوں اور دیگر ممالک سے مالی معاونت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا متحدہ عرب امارات کے قرض کی جگہ سعودی عرب سے نیا قرض لینے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اس وقت تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کا ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم محمد اورنگزیب نے اطمینان دلایا کہ پاکستان تمام قرضوں کی ادائیگی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس وقت ملک کے پاس تقریباً پونے تین ماہ کی درآمدات کے برابر ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگے بڑھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کے لیے ذخائر کو اس سطح پر برقرار رکھنا ہماری ترجیح ہے۔

وزیرِ خزانہ نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان اگلے ماہ اپنا پہلا ’پانڈا بانڈ‘ بھی جاری کرنے والا ہے، جو چینی کرنسی یوآن میں ہوگا۔

ڈھائی سو ملین ڈالر مالیت کا یہ بانڈ ایک ارب ڈالر کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے جس کی پشت پناہی ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان رواں سال یورو بانڈز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ڈالر سے منسلک روپیہ بانڈز پر بھی کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے فی الحال کسی تبدیلی کی درخواست نہیں کی گئی، لیکن اگر ضرورت پڑی تو آنے والے ہفتوں میں اس پر بات کی جا سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو صرف تجارتی ذخائر پر انحصار کرنے کے بجائے ایندھن اور ایل پی جی کے ’اسٹریٹجک ذخائر‘ بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب سپلائی میں اس طرح کے بڑے جھٹکے لگتے ہیں تو یہ ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ ہمیں توانائی کے متبادل اور شمسی ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک جی ڈی پی میں چار فیصد ترقی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ساڑھے اکتالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر سے پاکستان ایران جنگ کے معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کے قابل رہے گا۔

Read Comments