کھانے کے دوران اسکرین کا استعمال بچوں کی صحت کیلئے خطرناک ہے: طبی ماہرین
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی کھانا کھاتے ہوئے موبائل فون یا ٹی وی دیکھنے کی عادت ان کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ عادت کم عمری میں موٹاپا، فیٹی لیور (جگر میں چربی) اور انسولین (شوگر) کے مسائل جیسے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ خاص طور پر 10 سے 13 سال کی عمر کے بچوں میں زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی یہ عادت بظاہر بے ضرر لگتی ہے مگر درحقیقت یہ ان کے دماغ پر اثرات مرتب کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ کم عمری میں ہی موٹاپے اور دیگر ’میٹابولک امراض‘ کا شکار ہونے لگے ہیں۔
میٹابولک امراض سے مراد وہ بیماریاں ہیں جو اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب انسان کا جسم خوراک کو توانائی میں بدلنے کا کام صحیح طرح نہیں کر پاتا اور جسم میں فالتو اور زہریلے مادے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
عام الفاظ میں کہا جائے تو انسانی جسم کی کیمسٹری کا توازن بگڑ جائے تو اسے ’میٹابولک مرض‘ کہتے ہیں۔
بھارت کے معروف ہیلتھ ایجوکیٹر اور آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر منن وورا نے بھی سوشل میڈیا پر نئی نسل کے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ایک انسٹاگرام ویڈیو میں کہا کہ ہم اس پہلی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو اسکرین کے بغیر کھانا نہیں کھا سکتی۔
ڈاکٹر منن وورا کے مطابق جب بچے کھانے کے دوران کارٹون یا ویڈیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ان کی توجہ خوراک سے ہٹ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اس بات کو محسوس نہیں کر پاتے کہ کب پیٹ بھر گیا ہے اور اکثر ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی بچوں کی نیند کے ہارمون (میلاٹونن) کے ساتھ بھوک کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو پھر زیادہ بھوک لگتی ہےا اور پیٹ بھرا ہوا محسوس نہیں ہوتا ہے۔
جس سے وہ کم عمری میں ہی موٹاپے، فیٹی لیور (جگر میں چربی) اور انسولین (شوگر) کے مسائل جیسے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکرین کے سامنے کھانے سے بچوں کے دماغ میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کھانے کے لیے مسلسل تفریح ضروری ہے، جس سے وہ بغیر توجہ کے کھانے کے عادی ہو جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے لوگ فلم دیکھتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے اسنیکس یا پاپ کارن کھاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’جنک فوڈ‘ اور اسکرین دونوں سے دماغ میں ’ڈوپامائن‘ نامی خوشی کے ہارمون متحرک ہوتے ہیں اور جب یہ دونوں ایک ساتھ کارج ہوتے ہیں تو ایک خطرناک لت پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے فون ہاتھ میں آتے ہی بچے کے دماغ میں ’جنک فوڈ‘ کی طلب پیدا ہونے لگتی ہے۔
ڈاکٹر منن وورا نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگرچہ بچوں کو کھانے پر آمادہ کرنے کیلئے اسکرین کا استعمال وقتی طور پر آسان حل لگتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ان کی غذائی عادات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ گھر کے کھانوں کے اوقات میں اسکرین کا استعمال کم کریں اور بچوں کو توجہ کے ساتھ کھانا کھانے کی عادت ڈالیں۔