ایران کے خلاف جنگ عالمی معیشت کو گہری کھائی میں دھکیل سکتی ہے: آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانٹیری ایجنسی ’آئی ایم ایف‘ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت اور تیل کی منڈی میں مسلسل خلل عالمی معیشت کو کساد بازاری کے قریب دھکیل سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق بدترین صورتحال میں توانائی کی منڈی کو بار بار جھٹکے لگ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معاشی ترقی کی شرح موجودہ 3.1 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد تک گر سکتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس منظرنامے میں تیل کی قیمتیں 2026 میں اوسطاً 110 ڈالر فی بیرل اور 2027 میں 125 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے نسبتاً بہتر صورتحال بھی بیان کی ہے جس کے مطابق اگر جنگ مختصر رہی تو 2026 کے دوسرے نصف میں تیل کی قیمتیں معمول پر آ سکتی ہیں اور سالانہ اوسط قیمت تقریباً 82 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔
درمیانی صورتحال میں طویل جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں رواں سال تقریباً 100 ڈالر فی بیرل اور 2027 میں 75 ڈالر فی بیرل رہ سکتی ہیں، جبکہ عالمی ترقی کی شرح 2025 کے 3.4 فیصد سے کم ہو کر اس سال 2.5 فیصد تک گرنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کے چیف اکنامسٹ پیئر اولیور گورنچاس نے صحافیوں کو بتایا کہ توانائی کی مسلسل فراہمی میں رکاوٹ اور جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ نہ ہونے کے باعث درمیانی یا منفی منظرنامہ زیادہ حقیقت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔