ایران کی سمندری تجارت مکمل طور پر معطل کردی ہے: امریکی فوج کا دعویٰ
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ایرانی میڈیا نے سینٹ کام کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ خلیجِ فارس اور بحیرہ عمان میں ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی پر پیر سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ’سینٹرل کمانڈ‘ نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بحری راستوں سے ایران آنے اور جانے والی تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑ کر خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کا رخ کیا۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔
پریس ٹی وی کے مطابق امریکی دھمکی کے باوجود کم از کم چار جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا، جن میں سے دو جہاز باقاعدہ طور پر اس اہم گزرگاہ کو عبور کر گئے۔
ایرانی میڈیا نے میرین ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا بحری جہاز ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی پر 74 ہزار ٹن مکئی اتارنے کے بعد 13 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ جہاز نے آبنائے میں ایرانی جزیرے لارک کے قریب کا راستہ اختیار کیا۔
اسی طرح کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا اور بعد ازاں آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ یہ جہاز 31 ہزار ٹن میتھانول لے کر 31 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بوشہر سے روانہ ہوا تھا۔
اس سے قبل سینٹ کام نے خبردار کیا تھا کہ ناکہ بندی کے تحت ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل یا باہر جانے والے تمام ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق چین کا ایک ٹینکر ’رچ اسٹاری‘ بھی رات کے وقت لارک جزیرے کے جنوب میں ایران کے منظور شدہ روٹ سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جہازوں کے سگنلز میں خلل اور ممکنہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث درست ٹریکنگ مشکل ہو گئی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں پورے خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔