’بڑی خبر آنے والی ہے‘: صدر ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان 34 سال بعد تاریخی مذاکرات کا اعلان

صدر ٹرمپ کی جانب سے براہ راست مذاکرات کا یہ اعلان مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شائع 16 اپريل 2026 10:07am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جنگ بندی کے لیتے آج براہ راست مذاکرات کے لیے ایک میز پر بیٹھیں گے۔ یہ گزشتہ 34 سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہوگا جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام براہ راست سفارتی رابطہ کریں گے۔

اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کی آخری کوشش نوے کی دہائی کے اوائل میں کی گئی تھی، جس کے بعد سے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق، آخری بار جب اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں نے امن کے وسیع تر فریم ورک پر بات چیت کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھنے پر اتفاق کیا تھا، وہ 1991 کی مشہور ’میڈرڈ کانفرنس‘ تھی۔

اس تاریخی سربراہی اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ 1993 تک واشنگٹن میں جاری رہا۔ تاہم، تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور کسی باضابطہ امن معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

1993 کے بعد سے اب تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا ہر رابطہ بالواسطہ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان جاری دشمنی اور لبنان کا 1955 کا وہ قانون ہے جو تاحال تکنیکی طور پر نافذ العمل ہے۔

یہ قانون لبنانی شہریوں اور ریاست کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی یا سفارتی رابطے سے سختی سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی سیاست میں حزب اللہ کے گہرے اثر و رسوخ نے بھی براہ راست مذاکرات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کیں۔

گزشتہ تین دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ یا تو اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ذریعے ہوتا رہا ہے یا پھر امریکا اس میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اب صدر ٹرمپ کی جانب سے براہ راست مذاکرات کا یہ اعلان مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جلد اہم بات چیت ہونے جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ”کچھ گنجائش پیدا کرنے“ کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان گزشتہ 34 برسوں سے کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اب یہ تعطل ختم ہونے جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور خطے میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

Read Comments