ایران امریکا مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریاں جاری ہیں، تاریخ کا تعین نہیں ہوا: دفترِ خارجہ

لبنان میں امن کا قیام ہی ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے: دفتر خارجہ
اپ ڈیٹ 16 اپريل 2026 02:55pm

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے، تاہم فی الحال ان ملاقاتوں کی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان میں جاری جنگ بندی کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں امن کا قیام ہی ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس وقت لبنان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ ہے۔

ترجمان طاہر اندرابی نے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ثالثی کی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ہی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ شب ایران پہنچے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف تین ممالک کے اہم دورے پر ہیں۔

طاہر اندرابی نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں پاکستان کے اس مثبت اور مصالحانہ کردار کو سراہا جا رہا ہے اور یہ دورے ہماری قیامِ امن کی مخلصانہ کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا یہ دور تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہا تھا۔ اورط اس دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں فریقین کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تھا۔

طاہر اندرابی نے اسحاق ڈار کے گزشتہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے ان مذاکرات کے جاری رہنے کی جو امید ظاہر کی تھی، وہ اب سچ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ دونوں فریقین ایک بار پھر میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے صرف بات چیت اور تعاون کے ذریعے ہی موجودہ تنازعات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کا مقصد خطے کو جنگ کے سائے سے نکال کر استحکام کی طرف لانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاحال مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وقت کا تعین نہیں ہوا لیکن سفارتی سطح پر تیاریاں عروج پر ہیں اور پاکستان اس حوالے سے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت سامنے تو آئی ہے، تاہم دو ہفتوں کی جنگ بندی کا آدھے سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی پروگرام جیسے بڑے معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔

جمعرات کو ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف کا دورہ تہران بعض شعبوں میں فاصلے کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن ایٹمی شعبے میں بنیادی نوعیت کے اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایران کے اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی آرمی چیف کے تہران کے دورے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کا مستقبل اور ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندیوں کی مدت وہ اہم متنازع مسائل ہیں جن کا اب تک کوئی حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔

ان کے بقول ان پیچیدہ معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی ملاقاتوں میں ایران اور امریکا اُس جنگ کے خاتمے پر متفق نہیں ہو سکے تھے جس کا آغاز 28 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے اچانک حملے سے ہوا تھا۔

اس حملے کے نتیجے میں ایران نے خلیجی ممالک کی طرف جوابی کارروائی کی تھی اور لبنان میں بھی ایک متوازی جنگ چھڑ گئی تھی۔

Read Comments