ثانیہ مرزا کے والدین نے بیٹی کا مستقبل کیسے سنوارا؟

وہ وعدہ جو ثانیہ مرزا کے کامیاب کیریئر کی بنیاد ثابت ہوا۔
شائع 17 اپريل 2026 09:35am

بھارت کی سابقہ ٹیبل ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے والدین نے حال ہی میں ان کے بچپن اور ٹینس کی دنیا میں قدم رکھنے کے سفر سے جڑی یادوں پر روشنی ڈالی اور ان مشکلات کا ذکر کیا جو ان کی بیٹی کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بننے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔

ثانیہ مرزا کے پوڈکاسٹ ”سرونگ اٹ اپ ودھ ثانیہ“ میں ان کے والدین، عمران مرزا اور نسیما مرزا نے بتایا کہ انہوں نے ثانیہ کے لیے کرکٹ کے بجائے ٹینس کا انتخاب کیوں کیا؟

ثانیہ کی والدہ نے انکشاف کیا کہ جب وہ امریکہ میں مقیم تھے تو کم عمری میں ہی ثانیہ کو ٹینس کھیلنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ اپنے کزنز کو کھیلتے دیکھ کر خود بھی کورٹ میں جانے کی خواہش ظاہر کرتی تھیں اور کئی بار نہ کھیلنے پر رو بھی پڑتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی دوران انہوں نے یہ وعدہ کیا کہ بھارت واپسی پر وہ اپنی بیٹی کو ٹینس ضرور کھیلائیں گی۔ یہی وعدہ بعد ازاں ثانیہ مرزا کے کامیاب کیریئر کی بنیاد ثابت ہوا۔

نسیما مرزا نے مزید بتایا کہ ثانیہ کی پیدائش سے قبل ایک موقع پر وہ ومبلڈن کا میچ دیکھ رہے تھے، جس سے متاثر ہو کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو وہ اسے کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع دیں گے۔

تاہم، اس فیصلے پر انہیں قریبی رشتہ داروں کی جانب سے شدید تنقید اور طنز کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ انہیں ”پاگل“ بھی کہا گیا۔

رشتہ داروں کا مؤقف تھا کہ ٹینس ایک مہنگا کھیل ہے اور ایک لڑکی پر اتنا خرچ کرنا غیر ضروری ہے۔

ان کے مطابق بعض نے یہ بھی کہا کہ دھوپ میں طویل پریکٹس سے ثانیہ کی رنگت متاثر ہوگی اور سوال اٹھایا کہ ”پھر اس سے شادی کون کرے گا؟“

ان تمام دقیانوسی خیالات اور منفی تبصروں کے باوجود، ثانیہ کے والدین نے ہمت نہیں ہاری۔ عمران مرزا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو محض ایک گھریلو خاتون نہیں بلکہ ایک خودمختار اور مضبوط شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ ان کے پاس اس مہنگے کھیل کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہمیشہ وسائل موجود نہیں تھے، تاہم انہوں نے اپنی جمع پونجی اور سکون تک ثانیہ کے خوابوں کی تکمیل کے لیے قربان کر دیا۔

عمران مرزا نے فخر سے کہا کہ آج جب ثانیہ مرزا دنیا بھر میں بھارت اور اپنے خاندان کا نام روشن کر چکی ہیں، تو وہی رشتہ دار جو کبھی تنقید کرتے تھے، اب ان کے ساتھ تصویر بنوانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔

Read Comments