پھلوں کا بادشاہ یا فرحت بخش تربوز، کس پھل سے بلڈ شوگر تیزی سے بڑھتی ہے؟

ذیابیطس یا پری ڈایبیٹیز کے مریضوں کو خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔
شائع 17 اپريل 2026 01:46pm

ہیٹ ویو کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ماہرینِ صحت نے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پھلوں کے استعمال پر زور دیا ہے۔ تاہم، جب بات آتی ہے ’پھلوں کے بادشاہ‘ آم اور فرحت بخش تربوز کی تو اکثر لوگ خاص طور پر شوگر کے مریض اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ کون سا پھل ان کے خون میں شکر کی مقدار کو تیزی سے نہیں بڑھاتا؟ حالیہ طبی تحقیق نے اس گتھی کو سلجھا دیا ہے۔

جب ہم کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں تو خون میں گلوکوز کی سطح اچانک بلند ہو جاتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں ’اسپائک‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، آم اور تربوز دونوں میں قدرتی مٹھاس زیادہ ہوتی ہے، لیکن ان کا انسانی جسم پر اثر مختلف ہوتا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق سائنسی جریدے کرنٹ ڈیولپمنٹس ان نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ آم خون میں شکر کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور یہ اثر آم کی پختگی اور کھائی جانے والی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم آم کا گلیسیمک انڈیکس درمیانے درجے کا ہوتا ہے، اور اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔

آم میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو جسم میں شکر کے جذب ہونے کے عمل کو کچھ حد تک سست کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے آم سے خون میں شکر کی مقدار فوراً نہیں بڑھتی، خاص طور پر اگر اسے مناسب مقدار میں اور پروٹین یا فائبر والی غذا کے ساتھ کھایا جائے۔

فائبر کی مقدار آم کی مختلف اقسام اور علاقوں کے لحاظ سے بدل سکتی ہے۔ فائبر ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے اور گلوکوز کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کرتا ہے، لیکن یہ اثر خون میں شکر کے اضافے کو مکمل طور پر روک نہیں سکتا۔

دوسری جانب تربوز میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو فوری ہائیڈریشن فراہم کرتا ہے، لیکن اس کا گلائسیمک انڈیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ خون میں شکر کو نسبتاً تیزی سے بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے خالی پیٹ یا زیادہ مقدار میں کھایا جائے۔

اچھی بات یہ ہے کہ تربوز کا ’گلائیسیمک لوڈ‘ کم ہوتا ہے، یعنی اگر اسے محدود مقدار میں کھایا جائے تو یہ زیادہ نقصان دہ نہیں ہے۔

پھل کھانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

غذائی ماہرین کے مطابق آدھا بڑا آم یا ایک چھوٹا آم روزانہ کھانا زیادہ تر افراد کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح تربوز کے چند ٹکڑے ہی کھائیں، پوری پلیٹ نہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ذیابیطس یا پری ڈایبیٹیز کے مریضوں کو خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ دونوں پھل خون میں شکر کی سطح کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے افراد کو پھلوں کا انتخاب اور مقدار اپنے معالج کے مشورے سے کرنی چاہیے۔

پھلوں کو اکیلے کھانے کے بجائے گری دار میوے، بیج یا دہی کے ساتھ ملا کر کھائیں تاکہ شوگر کا اخراج متوازن رہے۔

پھلوں کا رس پینے سے گریز کریں کیونکہ اس میں فائبر ختم ہو جاتا ہے اور شوگر فوری طور پر خون میں شامل ہو جاتی ہے۔ ثابت پھل کھانا ہمیشہ بہتر ہے۔

رات گئے یا بالکل خالی پیٹ پھل کھانے کے بجائے کھانے کے درمیان وقفے میں کھائیں۔

آم بلڈ شوگر کو سست رفتاری سے بڑھاتا ہے جبکہ تربوز اسے تیزی سے اوپر لے جاتا ہے۔ تاہم، کوئی بھی پھل ”برا“ نہیں ہوتا؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اسے کتنی مقدار میں اور کس وقت کھاتے ہیں۔ متوازن غذا اور اعتدال پسندی ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔

Read Comments