وفاقی آئینی عدالت: بھارتی اور اسرائیلی کتب و اشیاء کی درآمد پر پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

پڑھنے کا حق بنیادی حق ضرور ہے مگر یہ ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت پابندیوں کے تابع ہے، عدالت
شائع 17 اپريل 2026 02:02pm

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں بھارت اور اسرائیل سے کتب و دیگر اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی کو درست قرار دیتے ہوئے متعلقہ نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر برقرار رکھا ہے۔

عدالت کا فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے اکثریتی رائے سے جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات مکمل طور پر حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور عدلیہ ان معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھے اور کن پر پابندیاں عائد کرے، عدالت نے واضح کیا کہ اگر عدلیہ تجارتی پالیسیوں میں مداخلت کرے تو یہ آئینی حدود سے تجاوز ہوگا۔


عدالت نے قرار دیا کہ نجی درخواست گزار اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلے ایگزیکٹو کا خصوصی اختیار ہیں اور عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومت کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرے یا نہ کرے، اور اگر عدلیہ اس حوالے سے احکامات جاری کرے تو یہ اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پڑھنے کا حق بنیادی حق ضرور ہے، تاہم یہ ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت عائد پابندیوں کے تابع رہتا ہے۔

عدالت نے آئین پاکستان کو ایک ’ارتقاء پذیر دستاویز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ اس کی تشریحات میں تبدیلی ممکن ہے۔

آرٹیکل 25-A کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مفت تعلیم کا حق صرف اسکول اور کالج کی حد تک محدود ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سے قانون کی کتابیں سستی ہونے کے باوجود خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ان پر پابندی برقرار رہے گی۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت پڑھنے کے حق کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حق زندگی کے حق سے جڑا ہوا ہے اور انسانی ذہن کو حقیقت اور تاریخ سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

پس منظر کے مطابق لاہور کے ایک نجی بک ہاؤس نے بھارت سے قانون کی کتابیں منگوانے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ کتابیں سستی اور قانونی نظام سے مماثلت رکھتی ہیں۔

وفاقی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت سے ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس درخواست پر حکومت کو ہدایت دی تھی کہ معاملے پر نظرثانی کی جائے اور کہا تھا کہ علم پر مکمل پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

تاہم وزارتِ تجارت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر اب عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔

Read Comments