سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار

حکومت نے سول سرونٹس کنڈ کٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
شائع 18 اپريل 2026 08:14pm

حکومت نے سول سرونٹس کنڈ کٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار ہوگی۔

جمعے کو وفاقی حکومت کی جانب سے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق نئے قواعد فوری طور پر ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوں گے۔

قواعد وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیے ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور بیرونی مصروفیات سے متعلق سخت ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔

جاری کردہ قواعد کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کو ڈیجیٹل پورٹل پر اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی جب کہ اثاثوں کی جانچ پڑتال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرے گا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ افسر فیصلہ سازی کے عمل سے الگ ہوگا۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے تحائف لینے پر سخت پابندی ہوگی جب کہ بیرونی اعزازات حاصل کرنے کے لیے پیشگی حکومتی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔

نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار ہوگی، سرکاری معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو الگ رکھنا لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق حکام کسی بھی وقت سوشل میڈیا تفصیلات طلب کرسکتے ہیں، سرکاری ملازمین پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہوگی اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت یا ان کی پالیسیوں پر کھلی تنقید ممنوع ہوگی۔

اسی طرح نجی اداروں یا این جی اوز میں ملازمت کرنے پر بھی پابندی ہوگی جب کہ بغیر اجازت پارٹ ٹائم یا فل ٹائم ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دستاویز کے مطابق قواعد میں دیانتداری، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

Read Comments