ایران کا آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر حملہ، بھارت میں سفیر طلب
خلیج میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے جہاں ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی سمندر میں فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
برطانوی میری ٹائم حکام کے مطابق ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، تاہم جہاز اور اس کا عملہ محفوظ رہا۔ حکام نے بتایا کہ فائرنگ پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس کی جانب سے کی گئی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک اور ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد کئی جہازوں نے راستہ بدل لیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اب مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور بعض غیر ملکی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جن میں قطر کے جہاز بھی شامل ہیں۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ہرمز کو بند کرنا ایک ’جوابی اقدام‘ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا، یہ ناکہ بندی دراصل سمندری ڈاکا ہے۔”
ایرانی قیادت نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا، ’ایرانی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کے لیے تیار ہے، ہماری فورسز امریکی منصوبوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہیں۔‘
سربراہ قومی سلامتی ابراھیم عزیزی نے اعلان کیا کہ “نئے قوانین کے مطابق صرف وہی کمرشل جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے جو ٹول ٹیکس ادا کریں گے۔”
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مذاکراتی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’ڈونلڈ ٹرمپ کے جھوٹے دعوؤں سے مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔‘
دوسری جانب بھارت نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت نے نئی دہلی میں ایرانی سفیر کو طلب کرلیا، جب دو بھارتی پرچم والے جہاز فائرنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے۔
بھارتی سیکرٹری خارجہ نے ایرانی سفیر کو بتایا کہ ’ہمیں اس واقعے پر گہری تشویش ہے‘ اور مطالبہ کیا کہ بھارت جانے والے جہازوں کی محفوظ آمدورفت جلد بحال کی جائے۔
ادھر امریکی فوجی کمان امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد اب تک 23 ایرانی جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے اور اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مذاکرات کی میز سجنے سے پہلے سمندر میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔