آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد فوراً بند، ڈرامائی 24 گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا؟
آبنائے ہرمز کی صورتحال میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آنے والی تبدیلیوں نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ کل تک یہ تاثر عام تھا کہ شاید ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے بحری جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو جائے گی، لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔
جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا اور سوشل میڈیا پر شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اشارہ دیا تھا کہ یہ راستہ دوبارہ کھل رہا ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چند ہی گھنٹوں میں دس فیصد تک گر گئی تھیں۔
تاہم، امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کی ایک رپورٹ میں عباس عراقچی پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کی شرائط اور طریقہ کار کے بارے میں ابہام پیدا کیا ہے۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ جب تک ایران کے ساتھ حتمی لین دین مکمل نہیں ہو جاتا، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
اس بیان کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا اور اب ایرانی پاسداران انقلاب یعنی آئی آر جی سی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سخت وارننگ دی گئی کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی جہاز کو دشمن کے ساتھ تعاون تصور کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ہفتے کے روز ایرانی فوج نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ جب تک امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں رہیں گی۔
اس بات کو ثابت کرنے کے لیے عمان کے ساحل سے بیس میل دور دو بحری جہازوں پر فائرنگ بھی کی گئی جس کا ذمہ دار جہاز کے کپتان نے ایرانی گن بوٹس کو قرار دیا ہے۔
اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے بھی ایک نایاب بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری بہادر بحریہ دشمنوں کو نئی شکست کی تلخی چکھانے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جگہ لینے کے بعد گزشتہ چھ ہفتوں سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں لیکن امریکا کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے دی گئی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف بحری راستوں بلکہ ایران کے افزودہ یورینیم کی واپسی اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے معاملے پر بھی شدید اختلافات برقرار ہیں۔
جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں اور ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ اس میں توسیع کی جائے گی یا نہیں۔
انہوں نے جمعہ کو کہا تھا کہ شاید میں اس میں توسیع نہ کروں، جس کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ بمباری شروع کرنی پڑے گی۔
ایرانی حکام بھی کسی قسم کے سمجھوتے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔
ایک سینیئر فوجی افسر جنرل محمد نقدی نے ہفتے کو دھمکی دی کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہم وہ میزائل استعمال کریں گے جن کی تیاری کی تاریخ مئی 2026 ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں لیکن ہم دنیا کے لیے پریشانی پیدا کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے ہم نے اب تک صبر سے کام لیا۔
اگرچہ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہو سکتا ہے، لیکن امریکی حکومت نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
اس دوران اتوار کی صبح واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے اندر اعلیٰ حکام کی بیٹھک بھی ہوئی جن میں وزیر دفاع، سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین شریک ہوئے۔ ٹرمپ کی زیرِ صدارت اس اجلاس میں اس سنگین بحران کے حل کے لیے مشاورت ہوئی۔