حوثیوں کا آبی گزرگاہ ’باب المندب‘ بند کرنے کا اعلان، حزب اللہ کا سیز فائر ماننے سے انکار
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، یمن کے حوثیوں نے اہم آبی گزرگاہ باب المندب بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ نے مجوزہ جنگ بندی کو یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمن میں حوثی حکومت کے نائب وزیر خارجہ حسین العزی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنا جاری رکھیں تو باب المندب کو بند کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ’اگر صنعا نے باب المندب بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تو اسے کھولنے کے لیے انسان اور جن دونوں بے بس ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بہتر یہی ہے کہ ٹرمپ اور ان کے ساتھ دینے والی دنیا فوری طور پر ایسی تمام پالیسیوں کو ختم کرے جو امن میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور ہمارے عوام کے حقوق کا احترام کرے۔‘
بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ آبنائے باب المندب سمجھی جاتی ہے۔
یہ گزرگاہ نہر سویز تک جانے والے بحری راستے کا اہم حصہ ہے اور یہاں سے خلیجی تیل سمیت بڑی مقدار میں تجارتی سامان دنیا بھر کو منتقل ہوتا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ نے مجوزہ جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ نعیم القاسم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یکطرفہ سیزفائر’لبنان کی توہین‘ ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہم کسی ایسے سیزفائر کو قبول نہیں کر سکتے جس میں ایک فریق کو مکمل آزادی ہو اور دوسرا پابندیوں میں جکڑا رہے‘۔
ان کے مطابق 2024 میں ہونے والی 15 ماہ کی جنگ بندی کے دوران اسرائیل کو کھلی کارروائی کی اجازت تھی جبکہ حزب اللہ محدود رہی، اور اس عرصے میں سفارتی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔
زمینی صورتحال کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں ہزاروں افراد اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے واپس جا رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث زیادہ تر لوگ رات گزارنے کے لیے دوبارہ بڑے شہروں، خصوصاً بیروت کا رخ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں پر بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کر سکتی ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔