ڈرون درآمد کے لیے رشوت کا الزام: بھارت میں ایوی ایشن اور ریلائنس انڈسٹریز کے افسر گرفتار

مقدمے میں مجرمانہ سازش اور ایک تجارتی ادارے کی جانب سے سرکاری افسر کو رشوت دینے کے الزامات شامل ہیں: سی بی آئی
شائع 20 اپريل 2026 03:19pm

بھارت کے تفتیشی ادارے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے رشوت ستانی کے سنگین الزامات کے تحت ملک کے سول ایوی ایشن ریگولیٹر کے ایک اعلیٰ افسر اور ریلائنس انڈسٹریز کے ایک سینئر ایگزیکٹو کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ڈرونز کی درآمد سے متعلق منظوریوں کے بدلے مبینہ مالی لین دین کی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سی بی آئی نے اتوار کی رات جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایک خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ریلائنس کے ایگزیکٹو اور ایک سرکاری افسر کے درمیان 15 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 16 ہزار امریکی ڈالر) کی رشوت طے پائی تھی تاکہ ڈرونز کی درآمد سے متعلق تین درخواستوں کی منظوری دی جا سکے۔ یہ درخواستیں کمپنی آستیریا ایرو اسپیس کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

سی بی آئی کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت مدواوتھ دیولہ کے طور پر ہوئی ہے جو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کرتے ہیں، جبکہ دوسرے ملزم بھارت ماتھر ہیں جو ریلائنس انڈسٹریز میں سینئر نائب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔

آستیریا ایرو اسپیس، ریلائنس کے ٹیکنالوجی بازو جیو پلیٹ فارمز کی ذیلی کمپنی ہے، جس کی قیادت ارب پتی مکیش امبانی کرتے ہیں۔

ریلائنس انڈسٹریز کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ماتھر بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دے رہے تھے۔ ترجمان کے مطابق کمپنی کو کسی ایسے مالی لین دین کا علم نہیں جو ان الزامات سے متعلق ہو اور نہ ہی کسی غیر مجاز ادائیگی کی منظوری دی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈی جی سی اے اور آستیریا ایرو اسپیس نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ گرفتار افراد سے بھی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا کیونکہ وہ پولیس کی حراست میں ہیں۔

سی بی آئی کے مطابق تحقیقات اس الزام پر شروع کی گئیں کہ ڈی جی سی اے کے ایک افسر نے زیر التوا درخواستوں کی منظوری اور اجازت نامے جاری کرنے کے بدلے نجی افراد سے غیر قانونی فائدہ طلب کیا تھا۔

ادارے نے بتایا کہ دونوں افراد کو نئی دہلی سے گرفتار کیا گیا اور ان سے 2 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے نقد برآمد ہوئے۔ مزید چھاپوں کے دوران ڈی جی سی اے افسر اور دیگر افراد کے ٹھکانوں سے 37 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 40 ہزار امریکی ڈالر)، سونا اور چاندی کے سکے بھی برآمد کیے گئے۔

سی بی آئی کے مطابق مقدمے میں مجرمانہ سازش اور ایک تجارتی ادارے کی جانب سے سرکاری افسر کو رشوت دینے کے الزامات شامل ہیں۔

آستیریا ایرو اسپیس کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے فضائی ڈیٹا سے انٹیلی جنس حاصل کرنے اور مخصوص ڈرون حل تیار کرنے کی خدمات فراہم کرتی ہے، اور اب تک 400 سے زائد ڈرونز تعینات کیے جا چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جیو پلیٹ فارمز ممبئی میں ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی پیشکش (آئی پی او) ہو سکتی ہے۔

۔

یہ واقعہ بھارت کے سول ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی عملے کی کمی کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے شعبے کی نگرانی کر رہا ہے جہاں ایئرلائنز پر حفاظتی قواعد کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

سی بی آئی کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن انڈیکس میں بھارت کی درجہ بندی مالی سال کے دوران 91 رہی، جو ایک دہائی قبل 76 تھی۔

Read Comments