امریکا کا بحری جہاز پر قبضہ، ایران نے اقوام متحدہ میں درخواست دائر کردی
امریکا اور ایران کے درمیان جاری بحری تنازع اب عالمی فورم تک پہنچ چکا ہے جہاں ایران نے پیر کے روز اپنے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر امریکی قبضے کے خلاف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے پاس باقاعدہ شکایت درج کروا دی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بحری جہاز پر امریکا کے قبضے کو ایک غیر قانونی اور وحشیانہ فعل قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین سمیت حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکا کے اس غیر قانونی اور مجرمانہ فعل کے انتہائی خطرناک نتائج سے خبردار کرتا ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایرانی جہاز، اس کے ملاحوں، عملے اور ان کے خاندانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ جہاز پر قبضے کے دوران ملاحوں اور ان کے اہل خانہ کو ڈرایا دھمکایا بھی گیا، جو کہ عالمی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سخت لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اسے ہر صورت مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔
ایک قدامت پسند ریڈیو پروگرام ’دی جان فریڈرکس شو‘ میں ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام کو مذاکرات کرنا ہوں گے، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ ایسی مشکلات کا سامنا کریں گے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ ایران بالآخر بات چیت پر راضی ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ امید ہے وہ ایک منصفانہ معاہدہ کریں گے اور اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کریں گے، لیکن جب وہ ایسا کریں گے تو ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار تک رسائی یا اسے حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں دے سکتے کیونکہ یہ دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے اور ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے جہاز پر قبضے کے حوالے سے اپنے دفاع میں کہا کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، ہمیں یہ قدم اٹھانا ہی تھا۔