بڑی تہذیب کا حامل ملک کبھی بھی دباؤ کے ذریعے فیصلے قبول نہیں کرتا: ایرانی سفیر

امریکا کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی: رضا امیری مقدم
شائع 21 اپريل 2026 11:15am

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے تحت مذاکرات کسی صورت قبول نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ ایک بڑی تہذیب رکھنے والا ملک طاقت اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔

ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ دھمکی اور زور زبردستی کے سائے میں مذاکرات نہ صرف ناقابلِ قبول ہیں بلکہ یہ اسلامی اور نظریاتی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بڑی تہذیب کا حامل ملک کبھی بھی دباؤ اور طاقت کے ذریعے فیصلے قبول نہیں کرتا۔

رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکا کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، بامعنیٰ مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکا ایران سے سرینڈر چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔

علاوہ ازیں اسی طرح کا مؤقف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Read Comments