ایرانی وفد کا آج اور جے ڈی وینس کا کل اسلام آباد پہنچنے کا امکان: مغربی میڈیا کا دعویٰ
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ عرب اور مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد کا آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے، تاہم نہ تو پاکستانی حکام اور نہ ہی ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔
العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور رائٹرز کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو اور سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں۔ تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔
الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک خوش ہوجائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔
ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔