پاک بھارت فضائی حدود کی بندش کا ایک سال، زیادہ نقصان کسے ہوا؟

اپریل 2025 میں کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی
اپ ڈیٹ 21 اپريل 2026 05:10pm

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کو ایک بار پھر بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ پاکستان اور بھارت نے اپریل 2025 سے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کو بند کر رکھا ہے۔ جس کے اثرات دونوں ملکوں کی ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کی بندش کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے نوٹم کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے تحت بھارتی طیارے 24 مئی تک پاکستانی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی بندش کا معاملہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سامنے آیا تھا۔ متعدد مرتبہ توسیع ہونے کے بعد اس پابندی کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

اس سے قبل یہ پابندی 24 اپریل تک تھی تاہم پاکستان کی جانب سے دوبارہ توسیع کے بعد دونوں ممالک کی ایک دوسرے پر فضائی پابندی 13ویں ماہ میں داخل ہو جائے گی۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود بندش کے باعث بھارتی پروازوں کا دورانیہ طویل، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ اور فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں۔

فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا دورانیہ کئی گھنٹوں تک بڑھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ اضافی ایندھن کے استعمال اور آپریشنل نئی لاگت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض پروازوں کو بیرونِ ملک ری فیولنگ اسٹاپس بھی کرنا پڑتے ہیں جب کہ کچھ روٹس پر سروس معطل کر دی گئی ہے، جس سے ایئرلائنز کے اخراجات اور ٹکٹوں میں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سارا بوجھ عام مسافروں پر پڑ رہا ہے۔

بھارتی ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ نے تخمینہ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے اسے سالانہ تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائی حدود کی پابندی کا پاکستان کی قومی ایئرلائن ’پی آئی اے‘ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

پی آئی اے کا بین الاقوامی فلائٹ نیٹ ورک اس روٹ پر محدود ہے اور پابندی سے قبل بھی پی آئی اے کی ہفتہ وار بمشکل چند پروازیں ہی بھارتی حدود سے گزرا کرتی تھیں۔

اس کے برعکس بھارتی ایئرلائنز کی بڑی تعداد مغربی ممالک، یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا کے لیے پروازیں چلاتی ہے، جنہیں اب پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث مسلسل طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور فضائی حدود پر عائد پابندیوں نے بھی بھارتی ایئرلائنز کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی حدود دستیاب ہوتی تو ’انڈیگو‘ اور ’ایئر انڈیا‘ ایران کے شمال سے ہوتے ہوئے یورپ اور مغربی ممالک کے لیے مختصر راستے اختیار کر سکتی تھیں، تاہم اب انہیں طویل اور پیچیدہ روٹس اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔

Read Comments