اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کی تصدیق کا انتظار ہے: پاکستان
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جب کہ پاکستان امن مذاکرات کیلئے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے بطور ثالث ایران سے رابطے میں ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے پیش نظر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران کو امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں۔
پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نیتالی بیکر نے منگل کے روز وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔
ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان تاحال غیر یقینی صورت حال برقرار ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔
العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور رائٹرز کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کو قائل کر لیا جائے گا۔
رائٹرز نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کا امکان نظر آیا تو مذاکراتی عمل میں امریکی صدر کی شرکت بھی متوقع ہے۔