امریکا سے مذاکرات میں شرکت پر وفد بھیجنے کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا: ایران

اس تاخیر کی وجہ امریکی بیانات اور اقدامات میں تضاد اور غیر واضح رویہ ہے: تہران کا مؤقف
اپ ڈیٹ 21 اپريل 2026 11:59pm

ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس تاخیر کی وجہ امریکی بیانات اور اقدامات میں تضاد اور غیر واضح رویہ ہے۔ حکام کے مطابق فیصلہ اسی صورت میں ہوگا جب مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہونے کا امکان ہو۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ اور امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات میں شرکت کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایرانی نیوزچینل سے گفتگو میں ایرانی جہازوں پر امریکا کی جارحیت سے متعلق کہا کہ ایرانی بحری جہازوں اور کھلے سمندروں میں تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکا پر ایران کے عدم اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحری جہازوں پر حملے سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق جب ان تمام اقدامات کو یکجا دیکھا جائے تو امریکا کی نیت اور طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ابتدا ہی سے امریکا پر اعتماد نہیں کرتا۔ ان کے مطابق 40 روزہ دفاعی مرحلے کے دوران مخالف فریق اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں مزید کہا کہ اگرچہ اس دوران متعدد حملے کیے گئے اور ایران کو نقصان پہنچا، حتیٰ کہ رہنماؤں اور کمانڈرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت کے باعث مخالفین اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے۔

ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی شرکت اس کے ذمہ دارانہ مؤقف کی عکاس ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ سفارتی عمل کا نتیجہ خیز ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایران اس وقت تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرے گا جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ مذاکرات عملی طور پر نتیجہ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق بطورسفارتی ادارہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی قوم کے سامنے شفاف انداز میں بات کریں۔

ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کئی اداروں نے اس معاملے پرغلط اطلاعات نشرکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا تو اس سے عوام کو ضرور آگاہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل، پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ممکنہ امن مذاکرات کے لیے ایران کی باضابطہ تصدیق کا انتظار کر رہا ہے اور اس حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہورہی ہے اور پاکستان کی خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے حالیہ مذاکراتی مؤقف پر باضابطہ ردِ عمل نہ آنے کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد کا دورہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر صورتِ حال کے دوبارہ جائزے کے باعث ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ امریکا کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات میں دوبارہ شرکت کرے گا یا نہیں۔ اسی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث واشنگٹن میں اعلیٰ سطح کی مشاورت جاری ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور جلد ایک معاہدے کی امید رکھتے ہیں، امریکا اس وقت مضبوط مذاکراتی پوزیشن میں ہے اور امکان ہے کہ جلد ایک بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔

Read Comments