ایران نے 8 خواتین کو سزائے موت سے متعلق تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
شائع 21 اپريل 2026 11:14pm

ایران کی عدلیہ نے 8 ایرانی خواتین کو سزائے موت سے متعلق تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران کی عدلیہ کی سرکاری ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق ایران نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 8 ایرانی خواتین کو سزائے موت دیے جانے کا خطرہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’’جعلی خبروں‘‘ سے گمراہ ہوئے ہیں۔

ایران کی عدلیہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ جن خواتین کے بارے میں سزائے موت کے قریب ہونے کا دعویٰ کیا گیا، ان میں سے بعض کو رہا کر دیا گیا ہے جب کہ دیگر کو ایسے مقدمات کا سامنا ہے جن میں زیادہ سے زیادہ سزا قید ہو سکتی ہے بشرطیکہ الزامات ثابت ہو جائیں۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر ایک اسرائیل کے حمایتی ایکٹوسٹ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ایرانی قیادت کے نام پیغام جاری کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے رہنماؤں کے نام، جو جلد ہی میرے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے والے ہیں، میں ان خواتین کی رہائی کو بہت سراہوں گا۔

اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات کا احترام کریں گے، براہِ کرم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، ان خواتین کی رہائی مذکرات کا بہترین آغازہوگا ۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اس پوسٹ میں ان 8 خواتین کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں تاہم ان کے نام فراہم نہیں کیے گئے۔ جاری کردہ تصاویر میں صرف ایک خاتون کی شناخت ممکن ہوسکی، جو رواں برس حکومت مخالف مظاہرے میں شریک تھی جب کہ دیگر کے بارے میں ابھی معلومات سامنے نہيں آسکیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان 8 خواتین کے ایران میں قید ہونے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی جب کہ ایران نے سزائے موت سے متعلق تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

Read Comments