ایران امریکا مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
امریکی اخبار نیویاک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر کردیا گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق مذاکرات سے متعلق ایران سے مثبت ردعمل نہ آنے پر نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر کیا گیا ہے۔ امریکی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ تہران نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی پاکستان روانہ نہیں ہوئے، ایرانی مثبت ردعمل آنے پروفد کا دورہ دوبارہ شیڈول ہوسکتا ہے۔
سی این این کے مطابق جے ڈی وینس وہائٹ ہاؤس میں پالیسی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانے والے وفد سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایرانی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ تاحال اسلامآباد میں مذاکرات میں شرکت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جب بھی مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، ایران اس میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی بحری جہازوں اور سمندری تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد کی اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کی تصدیق کا انتظارہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ثالث کے طور پر مذاکرات کے لیے ایرانی حکام سے رابطےمیں ہے، ایران کا جنگ بندی کے خاتمے سے قبل ایران کی مذاکرات میں شرکت اہم ہے، پاکستان ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے رضامند کرنے پر مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں ایک دشمن کے بجائے متعدد طاقتوں کا سامنا ہے، ماضی میں ہم ایک متعین دشمن کا سامنا کرتے تھے، مستقبل میں عوام کومشکل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، کچھ مسائل ایسے ہوں گے جو حکومت اکیلے حل نہیں کر سکے گی،عوام کو مشکل حالات میں حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق آئندہ کیا حکمت عملی اپنائیں گے۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل پاکستان کی ثالثی میں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔