مکیش امبانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز چھن گیا
بھارت کے معروف صنعتکار مکیش امبانی اس سال اپنی دولت میں نمایاں کمی کے باعث ایشیا کے امیر ترین شخص کی پوزیشن سے محروم ہو گئے ہیں۔ اب یہ اعزاز گوتم اڈانی کے پاس چلا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ تازہ ترین بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث امبانی کی مجموعی دولت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد گوتم اڈانی ایک بار پھر ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مکیش امبانی کی مجموعی دولت میں اس سال تقریباً 16.9 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد ان کی دولت تقریباً 91 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ یہ کمی ایشیا کے امیر ترین افراد میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
مکیش امبانی کی صاحبزادی ایشا امبانی کی زیرِ نگرانی چلنے والے ریٹیل بزنس کی شرح نمو 8 فیصد رہی، جو کہ مقررہ ہدف (20 فیصد) سے بہت کم ہے۔
دوسری طرف گوتم اڈانی کی دولت نسبتاً بہتر رہی ہے اور وہ دوبارہ ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ ان کے کاروبار زیادہ تر بندرگاہوں، بجلی اور بنیادی ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عالمی اتار چڑھاؤ سے کچھ حد تک محفوظ رہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں جاری سیاسی حالات اور توانائی کے مسائل نے بھارت کے بڑے تاجروں پر بھی اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے امیروں کی دولت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
ریلائنس انڈسٹریز کے لیے بھی حالات کچھ مشکل ہیں۔ کمپنی کا بڑا حصہ پیٹروکیمیکل کاروبار پر ہے، لیکن اس شعبے میں بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح ریٹیل کاروبار کی ترقی بھی اس کے مقررہ ہدف سے کم رہی ہے۔
کمپنی کے لیے ایک اہم امید اس کی ٹیلی کام کمپنی جیو کی ممکنہ فہرست بندی (آئی پی او) ہے، لیکن عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ریلائنس کے شیئرز بھی اس سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 13 فیصد گر چکے ہیں۔ کمپنی جلد ہی اپنے مالی نتائج جاری کرے گی، جس سے اس کی اصل صورتحال واضح ہو گی۔