ایران کا آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر قبضے کا دعویٰ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے کر ایرانی ساحل پر منتقل کر دیا ہے، جب کہ اس سے قبل خطے میں جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بحری جہازوں کو قبضے میں لے کر ایرانی سمندری حدود میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ان جہازوں پر الزام ہے کہ وہ بغیر اجازت کام کر رہے تھے اور بار بار ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور اپنی سمت نما نظام میں رد و بدل کر کے بحری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے تھے، بیان کے مطابق یہ جہازخفیہ طور پر آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ان جہازوں کو روکنے کا اقدام ایران کے قومی حقوق کے تحفظ کے تحت کیا گیا۔
’رائٹرز‘ کے مطابق اس سے قبل برطانوی بحری سیکیورٹی ادارے نے اطلاع دی تھی کہ کم از کم تین کنٹینر بردار جہازوں پر فائرنگ کی گئی۔ ایک جہاز کے کپتان کے مطابق ایرانی گن بوٹ نے عمان کے قریب جہاز کا تعاقب کیا اور اس پر فائرنگ کی جس سے جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی ثالثی کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے اس وقت تک روکے جا رہے ہیں جب تک کوئی متفقہ تجویز سامنے نہیں آتی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے خلاف بحری ناکا بندی جاری رکھے گا۔ دوسری جانب ایران نے اس ناکا بندی کو جنگی اقدام قرار دیا اور عندیہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی بندش ختم نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اب بھی دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے لیے تیاریاں مکمل تھیں، تاہم ایران اور امریکا کے وفود کی عدم شرکت کے باعث بات چیت نہ ہو سکی۔ پاکستانی حکام کے مطابق کوششیں جاری ہیں اور مستقبل میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔
ادھر دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات، جن میں جنگ بندی، بحری ناکا بندی، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول شامل ہیں، بدستور حل طلب ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اختلافات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے جب کہ عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ دنیا کا بڑا حصہ تیل اور گیس اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔