چین کے خلائی پروگرام کے لیے دو پاکستانی خلا باز منتخب

خلا بازوں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کے انتخاب کا پہلا مرحلہ رواں ماہ اپریل کے آغاز میں مکمل کیا گیا تھا۔
اپ ڈیٹ 22 اپريل 2026 07:43pm

چین نے پاکستان کے دو خلا باز امیدواروں کو اپنے انسانی خلائی پروگرام کی تربیت کے لیے منتخب کر لیا ہے، جن میں سے ایک مستقبل میں خلائی مشن میں حصہ لے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق چین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے دو شہریوں کو اپنے انسانی خلائی پروگرام کے تحت تربیت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ چین کی انسانی خلائی ایجنسی کے مطابق محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو جلد ہی تربیت کے لیے چین بلایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں امیدوار بطور ریزرو خلا باز تربیت حاصل کریں گے اور تمام تربیتی مراحل اور جانچ مکمل کرنے کے بعد ان میں سے ایک کو خلائی مشن میں بطور پے لوڈ اسپیشلسٹ شامل کیا جائے گا۔ یہ خلا باز چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ میں جانے والا پہلا غیر ملکی خلا باز ہوگا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے چینی خلائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ غیر ملکی خلا بازوں کے انتخاب کا پہلا مرحلہ رواں ماہ اپریل کے آغاز میں مکمل کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت پاکستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے، جس کے تحت ملک پہلی بار چین کے خلائی اسٹیشن مشن میں حصہ لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ تربیتی پروگرام چین کے ایسٹراناٹ سینٹر میں ہوگا، جہاں پاکستانی خلا باز کو مختلف سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔

مشن کے دوران خلا باز مائیکرو گریویٹی میں مختلف تجربات کرے گا جن میں مادّی سائنس، سیال طبیعیات، حیاتیاتی علوم اور بائیوٹیکنالوجی شامل ہیں۔ ان تجربات کے ممکنہ فوائد میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے، غذائی تحفظ اور صنعتی جدت کے شعبے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی اور خلائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک بڑھنے کی توقع ہے۔

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے سپارکو کی کوششوں کو ملک کے خلائی مستقبل کے لیے اہم قرار دیا اور پاکستان اور چین کی دوستی کو اس تعاون کی بنیاد قرار دیا۔

Read Comments