ایران نے میری درخواست پر 8 خواتین کی سزائے موت روک دی: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے میری درخواست پر 8 خواتین کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے، جن میں سے 4 خواتین کو جلد چھوڑ دیا جائے گا جب کہ دیگر 4 کو ایک ماہ کے لیے قید کی سزا ہوگی۔
بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اس کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی خبر ہے، انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کو اب پھانسی نہیں دی جائے گی، جنہیں آج رات سزائے موت دی جانی تھی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان خواتین میں سے 4 کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا جب کہ باقی 4 کو ایک ماہ قید کی سزا سنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سراہتے ہیں کہ ایرانی قیادت نے بطور امریکی صدر ان کی درخواست کا احترام کیا اور ان خواتین کی سزائے موت کو ختم کردیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس معاملے پر توجہ دینے پر وہ ایرانی حکام کے شکر گزار ہیں تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر 8 خواتین کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے حمایتی ایکٹوسٹ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ایرانی رہنماؤں کے نام پیغام لکھا کہ ’یہ ایران کے رہنماؤں کے نام، جو جلد ہی میرے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے والے ہیں، میں ان خواتین کی رہائی کو بہت سراہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات کا احترام کریں گے ، براہِ کرم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، ان خواتین کی رہائی مذکرات کا بہترین آغاز ہوگا‘۔
امریکی صدر کی جاری کردہ تصاویر میں صرف ایک خاتون کی شناخت ہوسکی تھی جو رواں برس حکومت مخالف مظاہرے میں شریک تھی جب کہ دیگر کے بارے میں معلومات سامنے نہيں آسکیں۔
امریکی میڈيا کے مطابق ان 8 خواتین کے ایران میں قید ہونے کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہيں ہو سکی۔ دوسری جانب ایرانی عدلیہ کی جانب سے 8 خواتین کو پھانسی کی سزا دیے جانےکی تردید کی گئی تھی۔
ایرانی عدلیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدرکو ایک بار پھر جعلی خبروں سےگمراہ کیا گیا، جن خواتین کی پھانسی کی بات کی گئی، ان میں سے کچھ رہا ہوگئی ہیں، دیگر خواتین پر جو الزامات ہیں ان میں سزا سنائی بھی گئی تو قید کی ہوگی۔