اسرائیل کی لبنان میں جارحیت برقرار، بمباری میں ایک خاتون صحافی جاں بحق

صحافیوں کا قتل ایک جرم اور بین الاقوامی و انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے: لبنانی وزیرِ اطلاعات پال مورکوس
شائع 23 اپريل 2026 11:11am

جنوبی لبنان میں اسرائیل کی فضائی بمباری کے دوران لبنان کی صحافی امل خلیل جاں بحق ہو گئی ہیں، جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپ کی رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق ان کی لاش کئی گھنٹوں بعد ملبے سے نکال لی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق لبنانی اخبار ’الاخبار‘ نے بتایا کہ اُن کی رپورٹر امل خلیل جنوبی گاؤں التیری میں ایک گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئیں۔ وہ اس گھر میں اس وقت پناہ لیے ہوئے تھیں کیونکہ اس سے قبل ایک اسرائیلی حملہ اس گاڑی کے قریب ہوا تھا جس میں وہ اپنی ساتھی کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پہلے حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دوسرے اسرائیلی حملے نے اسی مکان کو نشانہ بنایا جہاں امل خلیل اور ان کی ساتھی زینب فاراج پناہ لیے ہوئے تھیں۔

ابتدائی طور پر امدادی کارکن زینب فاراج تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جو شدید زخمی حالت میں ملیں جبکہ پہلے حملے میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی لاشیں بھی نکال لی گئیں۔

تاہم وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے باعث امدادی کارروائیاں روکنا پڑیں، جس کے نتیجے میں امل خلیل تک فوری رسائی ممکن نہ ہو سکی۔

امل خلیل کئی گھنٹوں تک ملبے تلے دبی رہیں، جس کے بعد لبنانی فوج، سول ڈیفنس اور لبنانی ریڈ کراس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی مکمل کی۔ ان کی لاش حملے کے کم از کم چھ گھنٹے بعد رات کے وقت نکالی گئی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گاؤں میں موجود افراد نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جس سے ان کے اہلکاروں کو خطرہ لاحق ہوا۔ اسرائیل نے صحافیوں کو نشانہ بنانے یا امدادی ٹیموں کو روکنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکوس نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا قتل ایک جرم اور بین الاقوامی و انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امل خلیل کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے دوسرے مرحلے کے براہ راست مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ جنگ بندی گزشتہ جمعہ سے نافذ ہے۔

امل خلیل جو جنوبی لبنان سے تعلق رکھتی تھیں، 2006 سے الاخبار کے لیے رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ ان کی حالیہ رپورٹس میں لبنان کے دیہات میں اسرائیلی افواج کی موجودگی اور گھروں کو مسمار کرنے سے منسلک رپورٹنگ شامل تھی۔

ان کی ہلاکت کے بعد رواں سال لبنان میں جاں بحق ہونے والے صحافیوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔ 2 مارچ کو شروع ہونے والی حالیہ اسرائیل-حزب اللہ جنگ میں اب تک کم از کم دو ہزار 300 افراد جاں بحق جبکہ 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

بدھ کے روز ہی رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے اسرائیلی فوج پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ امل خلیل کو بچانے کی کوششوں کی اجازت دی جا سکے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھی اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنا ممکنہ طور پر جنگی جرم ہو سکتا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے لبنانی ریڈ کراس کو ہدایت دی تھی کہ وہ لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کے امن دستوں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائی جلد مکمل کریں۔

اس سے قبل مارچ کے آخر میں بھی جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں تین صحافی جاں بحق ہوئے تھے، جن میں حزب اللہ کے المنار ٹی وی کے سینئر نمائندے علی شویب شامل تھے۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کے انٹیلی جنس آپریٹو تھے، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

اسی حملے میں بیروت کے المیادین ٹی وی سے وابستہ رپورٹر فاطمہ فتونی اور ان کے بھائی محمد فتونی بھی مارے گئے تھے۔ اس سے چند روز قبل بیروت میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں المنار ٹی وی کے سیاسی پروگراموں کے سربراہ محمد شری بھی اپنی اہلیہ سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔

الاخبار نے اپنی رپورٹر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امل خلیل کا نام ہمیشہ مرآة الجنوب کے ساتھ جڑا رہے گا۔

ادارے نے انہیں ایک نڈر اور بہادر صحافی قرار دیا جو نہ موت سے اور نہ طیاروں کی گھن گرج اور گولیوں کی آواز سے ڈریں، بلکہ غیر معمولی حوصلے کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرتی رہیں۔

Read Comments