ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کیلئے اہداف طے کر لیے: اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ حملے زیادہ شدید اور تباہ کن ہوں گے اور ایران کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے وزارتِ دفاع میں صورتِ حال کے جائزہ اجلاس کے دوران کہا کہ اہداف طے کیے جا چکے ہیں اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاری مکمل ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق اسرائیل اس وقت امریکا کی جانب سے اجازت کا منتظر ہے تاکہ کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکے اور ایران کے خلاف مزید اقدامات کیے جا سکیں۔
کاٹز نے دھمکی دی کہ ایران کے خلاف کارروائی کی صورت میں اسے شدید نقصان پہنچایا جائے گا اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے اسے تاریک دور کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ حملے زیادہ شدید اور تباہ کن ہوں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے سیکیورٹی حکام کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں ایران اور لبنان کی صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں، جب کہ دونوں جانب سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا نے ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی پوزیشن مزید سخت کر دی ہے۔
تاہم، سی این این کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے اس وقت 19 جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں، جن میں دو طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہیں، جب کہ سات جہاز بحرِ ہند میں بھی سرگرم ہیں۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکا کے کنٹرول میں ہے اور اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر داخل یا واپس نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایران کی کسی بھی کشتی کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے۔
صدر ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم اسی دوران امریکی افواج کی جانب سے ایران پر بحری ناکا بندی بھی برقرار ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر جمعے تک شروع ہو سکتا ہے۔